امریکہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارتخانے کی تعمیر کے لیے اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ امریکہ بیت المقدس کو یہودی عوام کا تاریخی اور مستقل دارالحکومت تسلیم کرتا ہے اور یہاں ایک نیا مستقل سفارتخانہ تعمیر کیا جائے گا، جو اسرائیل میں امریکی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز ہوگا۔

اسرائیل کے وزیر خارجہ گدعون ساعر نے اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے دورِ صدارت میں دسمبر 2017 میں بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر چکے ہیں۔ بیت المقدس اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک انتہائی متنازع علاقہ ہے۔

فلسطینی قیادت مشرقی بیت المقدس کو مستقبل کی آزاد ریاست کا دارالحکومت قرار دیتی ہے، جبکہ اسرائیل پورے شہر پر اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم عدالہ نے مجوزہ سفارتخانے کی تعمیر کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی ناانصافی کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔

 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار