اقوام متحدہ کے نقشے میں کشمیر متنازعہ، بھارت نے قرارداد کے حق میں ووٹ دے دیا
نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عالمی نقشہ سازی کے حوالے سے قرارداد منظور کرلی، جس میں روایتی مرکٹر نقشے کے متبادل کے طور پر Equal Earth نقشہ اپنانے کی حمایت کی گئی۔ قرارداد کے حق میں بھارت سمیت 164 ممالک نے ووٹ دیا۔
اقوام متحدہ کے معیاری Equal Earth نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ جبکہ لائن آف کنٹرول کو نقطہ دار لکیر سے نمایاں کیا گیا ہے، جس کے باعث کشمیر کی متنازعہ حیثیت ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں ہوگئی ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت کی جانب سے قرارداد کے حق میں ووٹ دینا اس کے اس دعوے کو کمزور کرتا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ اور محض اندرونی معاملہ ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے اندرونِ ملک تنقید کے بعد وضاحت جاری کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت نے نقشے میں جغرافیائی تناسب کی حمایت کی ہے، نقشے میں دکھائی گئی سرحدوں کی نہیں۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے بھارتی وضاحت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کا منظور کردہ نقشہ عالمی سطح پر قابل قبول ہے جبکہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں سے واضح ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی قراردادیں اس کی متنازعہ حیثیت کی واضح بنیاد ہیں اور اس معاملے کا حتمی حل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
دوسری جانب بھارتی حکومت طویل عرصے سے کشمیر سے متعلق اپنے مؤقف کے حق میں نقشہ جاتی اور قانونی اقدامات کرتی رہی ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے نقشے میں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا برقرار رہنا اس کے اصولی مؤقف کی تائید کرتا ہے



Leave A Comment