ناسا کا سائیکی مشن مریخ کے قریب سے گزرا، 2029 میں دھاتی سیارچے تک رسائی کی امید
امریکی خلائی ادارے ناسا کا سائیکی مشن اپنے اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں خلائی گاڑی مریخ کے انتہائی قریب سے گزری ہے۔ اس مرحلے کا مقصد مریخ کی کششِ ثقل سے اضافی رفتار حاصل کرنا ہے تاکہ مشن اپنے حتمی ہدف تک تیزی سے پہنچ سکے۔
یہ مشن ایک دیوہیکل دھاتی سیارچے “سائیکی” کا مطالعہ کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے، جو مریخ اور مشتری کے درمیان واقع ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ سیارچہ کسی قدیم سیارے کے مرکز کا باقی ماندہ حصہ ہو سکتا ہے۔
سائیکی خلائی گاڑی کو اکتوبر 2023 میں لانچ کیا گیا تھا اور یہ تقریباً 2.2 ارب میل کا طویل سفر طے کر رہی ہے۔ توقع ہے کہ یہ اگست 2029 میں اپنے ہدف تک پہنچے گی، جہاں یہ تقریباً 26 ماہ تک سیارچے کے گرد چکر لگاتے ہوئے اس کی ساخت، کششِ ثقل اور مقناطیسی خصوصیات کا مطالعہ کرے گی۔
اس مشن میں پہلی بار سولر الیکٹرک آئن تھرسٹر ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے، جس سے ایندھن کی بچت ممکن ہوگی۔ مریخ کے قریب سے گزرنے کا مرحلہ سائنسی آلات کی جانچ اور درستگی کیلئے بھی اہم ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ سیارچہ لوہا، نکل اور دیگر قیمتی دھاتوں پر مشتمل ہو سکتا ہے، اور اس کی ممکنہ مالیت کا تخمینہ 10 کوآڈریلین ڈالر تک لگایا گیا ہے۔
یہ مشن خلائی تحقیق میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ پہلا موقع ہوگا جب کسی دھاتی سیارچے کا قریب سے تفصیلی مطالعہ کیا جائے گا۔
_2026_05_15_16_01_05_95507141.jpg)

_2026_09_14_11_43_02_26045009.jpg)
Leave A Comment