ایرانی شہر میناب کا تباہ شدہ اسکول جنگی یادگار میں تبدیل
میناب: ایران کے شہر میناب میں 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں تباہ ہونے والے شجرۂ طیبہ اسکول کو جنگی یادگار میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دو منزلہ اسکول کی عمارت اب دوبارہ تعلیمی ادارہ نہیں بنے گی۔ عمارت کے چمکدار نیلے گیٹ پر آج بھی وہ نقوش موجود ہیں جو کبھی بچوں کو خوش آمدید کہتے تھے۔ گیٹ پر ایران کا نقشہ، بڑی پنسلیں اور سائنس و ادب کی معروف شخصیات کے پورٹریٹ نمایاں ہیں، تاہم عمارت کے اندر داخل ہونے والے راستے پر اب طلبہ کی تصاویر کی قطاریں دکھائی دیتی ہیں۔
تصاویر میں بچے ہنستے مسکراتے، سالگرہ کی تقریبات میں شریک اور مختلف سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں، جبکہ انہی بچوں کے چہرے اب سیاہ ماتمی بینروں پر بھی آویزاں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملے میں میناب کا شجرۂ طیبہ اسکول نشانہ بنا، جس کے نتیجے میں 160 طلبہ جاں بحق ہوئے۔ مہینوں گزرنے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ نے براہِ راست حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور پینٹاگون کی جانب سے بھی تحقیقات کے نتائج جاری نہیں کیے گئے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی تحقیقات کے مطابق شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکول کو کم از کم ایک امریکی میزائل نے نشانہ بنایا تھا۔
گزشتہ ہفتے میناب ایک بار پھر امریکی حملوں کی زد میں آیا، جب ایران کے جنوبی ساحلی علاقے میں امریکی حملوں کی نئی لہر کے دوران ایک شادی کی تقریب اور دیگر مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کو مقامی کمیونٹی اسپتال منتقل کیا گیا۔
اے پی کے مطابق شجرۂ طیبہ اسکول کی تباہ شدہ عمارت کے کمروں میں اس وقت کے اسباق اور تعلیمی سرگرمیوں کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ میزیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں جبکہ کئی چھتیں منہدم ہو چکی ہیں۔
عمارت کو تاریخی ریکارڈ کے طور پر محفوظ رکھنے کے مطالبات کے بعد ہرمزگان کے گورنر محمد اشوری تازیانی نے اعلان کیا ہے کہ اسکول کو جنگی عجائب گھر اور یادگار میں تبدیل کیا جائے گا۔
اسکول کے قریب میناب کے قبرستان کے ایک حصے کو بھی جاں بحق ہونے والے طلبہ کے لیے مختص کر دیا گیا ہے، جہاں اہلِ خانہ اور دیگر شہری قبروں کے درمیان خاموشی سے اپنے پیاروں کو یاد کرتے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق واقعے کے بعد اب تک تین لاشیں بھی تلاش نہیں کی جا سکی ہیں۔



Leave A Comment