برگن سٹاک/اسلام آباد: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے اہم مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت شہر برگن سٹاک میں منعقد ہوں گے، جنہیں خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی پیش رفت کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکراتی نشست میں امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے اعلیٰ نمائندے شرکت کریں گے، جبکہ مختلف وفود کی برگن سٹاک آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد بھی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکا ہے، جسے "میناب 168" کا نام دیا گیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کونسل کے سینئر عہدیدار علی باقری، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی شامل ہیں۔ وفد کو ایران کے سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی مفادات کی نمائندگی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں، جبکہ امریکی نائب صدر کی بھی مذاکراتی عمل میں شرکت متوقع ہے۔

پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کا کردار اس عمل میں سہولت کار اور اعتماد سازی کے اہم شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برگن سٹاک مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کے امکانات پیدا کر سکتے ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام، علاقائی سلامتی اور اقتصادی تعاون کے نئے دروازے بھی کھول سکتے ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اس اہم سفارتی عمل پر مرکوز ہیں اور مذاکرات کے نتائج کو خطے کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار