ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے جارحیت امریکا کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر سکتی ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض عہدیدار زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ آئندہ صدارتی انتخابات پر مرکوز ہے، جس کی وجہ سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی جارحانہ پالیسیوں کا نتیجہ صرف تنازع میں اضافہ ہوگا اور امریکا کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کی جانب سے ایرانی اثاثے ضبط کرنے کے مؤقف کو بھی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس روایت کو عام کیا گیا تو عالمی سطح پر کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے، جس سے شدید عالمی افراتفری پیدا ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ایوان نمائندگان امریکا کی جانب سے جنگی کارروائیوں سے خبردار کیے جانے کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید بڑی فوجی کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف پہلے سے بھی بڑے حملوں پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔

 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار