ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے منصوبے کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکمت عملی الٹا خود امریکا کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکا ایران کو دباؤ میں لانا چاہتا تھا، مگر اس کے نتیجے میں خود اسے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو کمزور کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں بلکہ اس سے عالمی توانائی منڈی میں عدم استحکام بڑھ گیا ہے۔

ایرانی اسپیکر کے مطابق امریکا کی پالیسیوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں، جس سے معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھی حال ہی میں عالمی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی کم کر دی ہے، جسے ماہرین توانائی بحران سے جوڑ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشت پر پڑنے کا خدشہ ہے۔

 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار