تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لامرد میں ہونے والے حملے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے اثرات آج بھی شہر کی دیواروں، سڑکوں اور متاثرہ خاندانوں کے ذہنوں میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ 4 کلسٹر میزائلوں کے استعمال سے 20 سے زائد ایرانی شہری شہید جبکہ 180 افراد زخمی ہوئے۔

اسماعیل بقائی کے مطابق حملے میں استعمال کیے گئے میزائلوں میں ایک لاکھ 80 ہزار تک دھاتی ٹکڑے موجود تھے، جن کے باعث بڑی تعداد میں شہری متاثر ہوئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے لامرد میں پہلی مرتبہ اس نوعیت کے میزائل استعمال کیے۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ حملے کو 6 ماہ گزرنے کے باوجود متعدد بچے اور دیگر متاثرہ افراد معذوری اور شدید جسمانی تکلیف کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض بچوں کے جسموں میں پری ایس ایم میزائلوں کے ٹنگسٹن ذرات اب بھی موجود ہیں، جس کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ لامرد کے عوام کے ساتھ پیش آنے والے اس سانحے کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ایران حملے میں ہونے والی ہر شہادت اور نقصان کا ریکارڈ محفوظ کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران ان شواہد کو عالمی فورمز پر انصاف کے حصول کے لیے پیش کرے گا۔ ان کے بقول حملے کے ذمہ داروں، متعلقہ کمانڈروں اور معاونین کے احتساب کے لیے بھی یہ شواہد استعمال کیے جائیں گے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار