بھارت میں نوجوانوں کی جین زی تحریک نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی امتحان بن گئی ہے۔ اس تحریک نے حکومتی انتظامی مسائل اور خاص طور پر امتحانی نظام میں بدانتظامی کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق پیپر لیکس اور امتحانی بے ضابطگیاں حکومتی کمزور گرفت کو ظاہر کرتی ہیں، جبکہ طویل حکمرانی کے باوجود عوامی مسائل حل نہیں ہو سکے۔

بھارتی صحافی نیہا پونیا کا کہنا ہے کہ مودی دور میں 152 امتحانی پرچے لیک ہوئے، جس سے تقریباً ساڑھے 7 کروڑ طلبہ متاثر ہوئے۔

عالمی جریدے الجزیرہ کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا سوشل میڈیا پر طویل کنٹرول اب نوجوانوں کے خلاف جا رہا ہے، اور نوجوان اپنی آواز اٹھانے کے لیے مختلف پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں۔

اسی طرح دی وائر کے بانی سدھارتھ وردراجن کا کہنا ہے کہ حکومتی حمایت یافتہ میڈیا نوجوانوں کے مسائل کو نظر انداز کر رہا ہے۔

دوسری جانب راہول گاندھی نے بھی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے دوران پیلٹ گنز کے استعمال سے انکار کیا گیا، لیکن متاثرہ طلبہ نے اس کی حقیقت سامنے لا دی۔

 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار