بھارت میں مسلم خواتین کے خلاف اے آئی کے غلط استعمال اور ڈیپ فیک مواد میں اضافہ، تشویش بڑھ گئی
بھارت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں جعلی ویڈیوز، تصاویر اور من گھڑت آوازوں کے ذریعے سوشل میڈیا پر غلط مواد پھیلایا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بعض کیسز میں مسلم خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز کو اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے تبدیل کر کے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ جعلی وائس اوورز بھی استعمال ہوئے ہیں۔
متاثرہ خواتین نے ان واقعات کے خلاف شکایات درج کرائی ہیں اور متعلقہ اداروں سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے اے آئی مواد کو سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں ویوز مل رہے ہیں، جس سے آن لائن ہراسانی اور نفرت انگیز رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تحقیقی مطالعات میں اس رجحان کو سماجی اور سیاسی سطح پر تشویشناک قرار دیا گیا ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق سائبر کرائم اداروں کو اس نوعیت کے ڈیپ فیک مواد کی روک تھام میں مشکلات کا سامنا ہے، اور مؤثر قوانین اور فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
_2026_06_16_09_19_30_64032060.jpg)

_2026_09_14_11_43_02_26045009.jpg)
Leave A Comment