چین کے سائنس دانوں نے ایک نئی قسم کی پلاسٹک تیار کی ہے جو استعمال کے بعد خود بخود ختم ہو سکتی ہے اور اس سے مائیکرو پلاسٹک پیدا نہیں ہوتا۔

ماہرین کے مطابق یہ “زندہ پلاسٹک” ایسے جراثیم پر مشتمل ہے جو مخصوص حکم ملنے پر پلاسٹک کو توڑنے والے اینزائم خارج کرتے ہیں، جس سے یہ مکمل طور پر تحلیل ہو جاتی ہے۔

عام پلاسٹک اشیاء ماحول میں کئی دہائیوں تک موجود رہتی ہیں اور آلودگی کا بڑا سبب بنتی ہیں، تاہم یہ نئی ایجاد اس مسئلے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا تو دنیا میں بڑھتے ہوئے پلاسٹک ویسٹ اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار