سائبر سکیورٹی کمپنی کاسپرسکی کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے 68 فیصد پاس ورڈز ایک دن کے اندر ہیک کیے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2023 سے 2026 کے دوران لیک ہونے والے 23 کروڑ سے زائد پاس ورڈز کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ زیادہ تر صارفین آسان نمبرز، عام الفاظ اور سادہ علامات استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ہیکرز کے لیے پاس ورڈ توڑنا آسان ہو جاتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ 53 فیصد پاس ورڈز نمبروں پر ختم ہوتے ہیں جبکہ 17 فیصد نمبروں سے شروع ہوتے ہیں، اور تقریباً 12 فیصد میں تاریخ جیسی ترتیب شامل ہوتی ہے۔ یہ عام عادتیں سائبر حملہ آوروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ‘1234’، ‘qwerty’ اور ٹرینڈنگ الفاظ جیسے “Skibidi” یا جذباتی الفاظ جیسے ‘love’ اور ‘angel’ کا استعمال بھی پاس ورڈز کو کمزور بناتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 8 حروف تک کے پاس ورڈز بہت تیزی سے ہیک ہو سکتے ہیں، جبکہ جدید مصنوعی ذہانت کی مدد سے 15 حروف کے کچھ پاس ورڈز بھی ایک منٹ سے کم وقت میں توڑے جا سکتے ہیں۔

ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مضبوط اور منفرد پاس ورڈز استعمال کریں، جن میں مختلف حروف، نمبرز اور غیر متوقع علامات شامل ہوں، تاکہ سائبر حملوں سے محفوظ رہا جا سکے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار