وزن کم کرنے والی ادویات سے ذہنی صحت میں بہتری کے امکانات، تحقیق میں اہم انکشاف
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج میں استعمال ہونے والی کچھ ادویات ذہنی صحت کے مسائل میں کمی کا سبب بن سکتی ہیں۔
یہ ادویات، جن میں اوزیمپک اور ویگووی شامل ہیں، ایک خاص گروپ سے تعلق رکھتی ہیں جسے جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگونِسٹس کہا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ ادویات نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہیں۔
تحقیق کے دوران سویڈن کے قومی ہیلتھ ریکارڈز کا تجزیہ کیا گیا جس میں تقریباً ایک لاکھ افراد کے ڈیٹا کو 2009 سے 2022 تک فالو کیا گیا۔ ان میں سے 20 ہزار سے زائد افراد نے جی ایل پی-1 ادویات استعمال کیں۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ ان ادویات کے استعمال کے دوران ڈپریشن، بے چینی اور نفسیاتی اسپتال میں داخلوں کی شرح میں واضح کمی دیکھی گئی۔
خاص طور پر سیمیگلوٹائڈ کے استعمال سے نفسیاتی اسپتال کے دوروں اور بیماری کی چھٹیوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ڈپریشن کے خطرے میں تقریباً 44 فیصد اور اینزائٹی ڈس آرڈر میں 38 فیصد کمی دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جسمانی بیماریوں کے علاج کا ذہنی صحت پر بھی گہرا اثر ہو سکتا ہے، تاہم مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
_2026_05_07_06_15_06_60827968.jpg)
_2026_09_10_12_16_14_40243443.jpg)

Leave A Comment