اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے انتظامی اور آپریشنل امور میں بنیادی اصلاحات کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر 20 رکنی خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

وزارتِ صحت کے ذرائع کے مطابق اس خصوصی کمیٹی میں سرکاری اور نجی شعبے کے نامور طبي ما ہرین اور قانون دان شامل کیے گئے ہیں۔ کمیٹی پمز ہسپتال کے انتظامی ڈھانچے، طبی سہولیات اور ایمرجنسی پروٹوکولز کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی حتمی سفارشات اور اصلاحاتی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کرے گی، جس کی روشنی میں ہسپتال کے مستقبل سے متعلق حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پمز کو شفاف بنیادوں پر چلانے کے لیے ایک بااختیار بورڈ آف گورنرز (BOG) تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کی ممتاز شخصیات کو شامل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ اقدامات پمز ہسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے این آئی سی یو (NICU) وارڈ میں 26 اگست کو آتشزدگی کے المناک سانحے کے بعد اٹھائے جا رہے ہیں، جس میں 14 نوزائیدہ بچے جھلس کر جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس دلدوز واقعے کی تحقیقات کے بعد ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 سینئر افسران کو معطل کیا جا چکا ہے اور ان کے خلاف ضابطہ اخلاق و فوجداری قوانین کے تحت باقاعدہ قانونی کارروائی جاری ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار