پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے باوجود عوام کو مکمل ریلیف نہ مل سکا، اعداد و شمار کے مطابق قیمتیں اب بھی امریکا ایران کشیدگی سے قبل کی سطح پر واپس نہیں آئیں۔

تجزیے کے مطابق پاکستان میں اس وقت پٹرول کی قیمت 299 روپے 50 پیسے کے بجائے 283 روپے 26 پیسے فی لیٹر ہونی چاہیے تھی، یعنی عوام اب بھی فی لیٹر 16 روپے 24 پیسے اضافی ادا کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 27 فروری 2026 کو برینٹ آئل 72 ڈالر فی بیرل تھا جبکہ پاکستان میں پٹرول 258 روپے 17 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔ بعد ازاں عالمی سطح پر قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور 3 اپریل کو برینٹ آئل 128 ڈالر تک پہنچ گیا۔

اس دوران پاکستان میں پٹرول کی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک جا پہنچی، جو عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ بعد ازاں عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی شروع ہوئی اور 19 جون تک برینٹ آئل 79 ڈالر فی بیرل تک آ گیا۔

پاکستان میں بھی قیمت کم ہو کر 299 روپے 78 پیسے فی لیٹر ہو گئی، تاہم مجموعی طور پر عالمی مارکیٹ میں 9.72 فیصد اضافے کے مقابلے میں پاکستان میں پٹرول 16.12 فیصد مہنگا رہا۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر کمی کے باوجود مقامی سطح پر اس کا مکمل فائدہ عوام تک منتقل نہیں کیا گیا، جس کے باعث صارفین اب بھی اضافی مالی بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار