وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے 10 لاکھ میٹرک ٹن تک گندم درآمد کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے، جبکہ درآمد پر عائد تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز سے استثنیٰ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے گندم کی درآمد پر تمام وفاقی ٹیکسز اور ڈیوٹیز ختم کرنے کی سفارش کر دی ہے، جبکہ صوبائی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس سے بھی چھوٹ دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے تاکہ درآمدی لاگت کم کی جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاسکو کے ذخائر میں موجود 10 لاکھ ٹن گندم بھی صوبوں کو فراہم کرنے کی تجویز ہے، اور اس کے بعد صوبوں کی باقی ضروریات درآمدی گندم سے پوری کی جائیں گی۔

پاسکو کی گندم کی فراہمی پر لاگت کا تخمینہ تقریباً 141 ارب روپے لگایا گیا ہے، جبکہ 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی درآمد پر تقریباً 34 کروڑ ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبوں نے اپنے اسٹریٹجک گندم ذخائر میں نمایاں کمی کی نشاندہی کی ہے، جس کے باعث گندم کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات ضروری قرار دیے گئے ہیں۔

مزید برآں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے گندم درآمد کے عمل کی نگرانی کے لیے نائب وزیراعظم کی سربراہی میں ایک سٹیئرنگ کمیٹی قائم کر رکھی ہے، جو اس پورے عمل کو مانیٹر کر رہی ہے۔

 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار