اسلام آباد: وفاقی وزارت صحت اور یونیسیف کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ نے پاکستان میں بچوں کی صحت کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ملک کے سات بڑے شہروں کے ہائی رسک علاقوں میں 40 فیصد بچوں کے خون میں سیسہ (لیڈ) پایا گیا ہے۔ سب سے تشویشناک صورتحال ہری پور کے صنعتی علاقے ہٹڑ میں دیکھی گئی، جہاں 88 فیصد بچوں میں سیسے کی بلند سطح ریکارڈ کی گئی۔ یہ تحقیق 12 سے 36 ماہ کے بچوں پر کی گئی اور اس کے لیے 2 ہزار سے زائد خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سیسہ بچوں کی دماغی نشوونما، ذہانت، یادداشت اور قوت مدافعت کو مستقل بنیادوں پر متاثر کرتا ہے، جس کے اثرات ناقابلِ واپسی ہو سکتے ہیں۔


تحقیقاتی رپورٹ کے اہم اعداد و شمار اور اثرات (ٹیبل):

پہلو تفصیلات / اعداد و شمار
کل متاثرہ بچے (ہائی رسک علاقوں میں) 40 فیصد
سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ (ہٹڑ، ہری پور) 88 فیصد بچے متاثر
سب سے کم متاثرہ علاقہ (اسلام آباد) صرف 1 فیصد بچے متاثر
تحقیق میں شامل عمر کا گروپ 12 سے 36 ماہ کے بچے
تجزیہ کردہ نمونے 2,000 سے زائد
بچوں کی جذب کرنے کی صلاحیت بڑوں کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ
سیسے کے اثرات دماغی صلاحیت، ذہانت میں کمی، قوت مدافعت پر مستقل حملہ
ملکی معیشت کو سالانہ نقصان (اندازہ) 25 سے 35 ارب ڈالر

کلیدی انکشافات اور حکومتی اقدامات:

  • متاثرہ شہر: تحقیق میں کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی کے صنعتی علاقے اور اسلام آباد شامل تھے۔

  • خطرناک ذرائع: سیسے کی موجودگی کے بڑے اسباب میں صنعتی آلودگی، بیٹری ری سائیکلنگ، پینٹس، آلودہ مصالحہ جات، خوراک اور روایتی کاسمیٹکس شامل ہیں۔

  • سیسے کی "محفوظ حد" کا نہ ہونا: رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ خون میں سیسے کی کوئی بھی سطح محفوظ نہیں، اور اس کے اثرات زندگی بھر رہتے ہیں۔

  • قومی سروے کا فیصلہ: اس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر، حکومت نے بچوں اور حاملہ خواتین میں سیسے کی سطح جانچنے کے لیے ملک گیر قومی سروے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • قومی ترجیح: وفاقی وزارت صحت نے بچوں کو سیسے سے بچانا قومی ترجیح قرار دیا ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار