اسلام آباد میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایچ آئی وی کے 3 لاکھ مریض ہونے کا دعویٰ مفروضے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں وزیر صحت نے بتایا کہ گلوبل فنڈ میں سے 25 فیصد رقم حکومت کو اور 75 فیصد این جی اوز کو فراہم کی جا رہی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اب حقیقی کیسز کی تعداد اور زیادہ سامنے آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ 90 فیصد افراد میڈیکل وجوہات کی بنیاد پر ڈی پورٹ ہو رہے ہیں اور بارڈر ہیلتھ سروسز میں ان کی سکریننگ ہوگی۔ سندھ میں ایک جگہ بچوں میں مرض اس وجہ سے پایا گیا کیونکہ انہیں غلط سرنجز لگائی گئی تھیں۔

اجلاس میں ڈی جی ہیلتھ نے بریفنگ دی، جس پر وزیر صحت نے انہیں ہدایت کی کہ صرف اسلام آباد کا ڈیٹا پیش کریں اور ادھر ادھر کی باتیں نہ کریں۔

مزید یہ کہ وزیر صحت نے نرسنگ کونسل کے حوالے سے بھی کہا کہ "اتنا بڑا مافیا ہے، عدالت نے بغیر سنے حکم امتناع دیا، ہم سارے طریقہ کار ڈھونڈ رہے ہیں اور اس پر ان کیمرا سیشن کریں گے۔"

پی ایم ڈی سی کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ خالی سیٹیں لازمی پر کی جائیں گی، رجسٹرار نے کہا کہ اس مدت کو 31 مارچ تک بڑھا دیا گیا ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار