مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ آج پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ اجلاس سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا۔

بجٹ کا مجموعی حجم 17 ہزار 500 ارب سے 18 ہزار ارب روپے تک ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔

دفاعی اخراجات کے لیے 3 ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ اس کے ساتھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جبکہ برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر اور درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر مقرر کیا جائے گا۔

بجٹ میں کوئی نیا بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کرنے کی تجویز ہے اور توجہ صرف جاری منصوبوں پر مرکوز رکھنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ سابق فاٹا کے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار