واشنگٹن: گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کے باعث پیدا ہونے والے اقتصادی خطرات کے باوجود پاکستانی معیشت بہتر پوزیشن میں ہے۔

انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں، بین الاقوامی بینکوں اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے سینئر حکام سے ملاقاتوں کے دوران بتایا کہ پاکستان نے محتاط مالیاتی اور زری پالیسیوں کے ذریعے معیشت کے استحکام کو مضبوط بنایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5.7 فیصد رہی، بیرونی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا، جبکہ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 16.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ جون 2026 تک یہ ذخائر تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

گورنر نے کہا کہ حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں 3.8 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کی 1.8 فیصد کے مقابلے میں بہتر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معیشت موجودہ چیلنجز کے باوجود مستحکم ہے اور حکومت و سٹیٹ بینک قیمتوں کے استحکام اور معاشی بحالی کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔

مزید یہ کہ ترسیلاتِ زر اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، 9 لاکھ 17 ہزار سے زائد آر ڈی اے اکاؤنٹس میں مجموعی رقوم 12.4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار