نئی آٹو پالیسی تعطل کا شکار، مذاکرات ناکام، پرانی پالیسی میں ایک سال توسیع کا امکان
نئی آٹو پالیسی پر جاری مذاکرات تاحال کامیاب نہیں ہو سکے جس کے باعث حکومت نے پرانی آٹو پالیسی کو مزید ایک سال جاری رکھنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نئی پالیسی پر بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور متعلقہ بورڈ کے ساتھ مشاورت جاری ہے لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ آٹو پالیسی پر مکمل عملدرآمد بھی ممکن نہیں ہو سکا، جبکہ نئی پالیسی کے نفاذ میں تاخیر پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ نئی آٹو پالیسی کو سرمایہ کار دوست بنایا جائے تاکہ سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو سکے۔
مجوزہ پالیسی میں گاڑیوں کے لیے عالمی معیار کے سیفٹی سٹینڈرڈز اپنانے اور ان پر عمل نہ کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے فروغ کے لیے بھی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب مختلف وزارتوں کے درمیان سٹینڈرڈز کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں جس پر پارلیمانی کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکام کے مطابق ای وی بائیکس کے شعبے میں پیش رفت ہو رہی ہے لیکن چارجنگ سٹیشنز کی عدم دستیابی اور مقامی بیٹریوں کی کمی جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ ای وی بائیکس کے لیے حکومت نے سبسڈی بھی مختص کر رکھی ہے، تاہم اس شعبے میں بہتر نظام اور واضح پالیسی کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
_2026_07_14_15_39_36_11454576.jpg)


Leave A Comment