نشتر انسٹیٹیوٹ آف ڈینٹسٹری میں مبینہ جنسی ہراسانی کا انکشاف
ملتان(انویسٹیگیشن سیل )سرکاری ہسپتال میں مبینہ طور پر دوران ٹرینگ پرنسپل کی جانب سے ہراساں کرنے کی شکایات سامنے آئیں، حکومتِ پنجاب کے سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے نشتر انسٹی ٹیوٹ آف ڈینٹسٹری (NID) ملتان میں مبینہ بدانتظامی، جنسی ہراسانی اختیارات کے ناجائز استعمال اور فرائض میں غفلت کے حوالے سے حقائق کا تعین کرنے کے لیے قائم کردہ اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی کی کارروائی تیز کر دی ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن آفیسر (GC) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین مراسلے کے مطابق، تمام متعلقہ فریقین کو 06 اپریل 2026 کو دوپہر 12:30 بجے اسپیشل سیکرٹری ہیلتھ (جنوبی پنجاب) کے دفتر میں طلب کیا گیا ہے تاکہ معاملے کی ذاتی سماعت (Personal Hearing) کی جا سکے۔
آج کا تازہ اخبار
اس انکوائری کا آغاز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پنجاب کو موصول ہونے والی ایک شکایت کے بعد کیا گیا تھا، جس پر محکمہ صحت نے 27 فروری 2026 کو نوٹیفکیشن نمبر SO(Dental)02-80/2026 کے تحت تین رکنی "پروب کمیٹی" تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی کی سربراہی اسپیشل سیکرٹری ہیلتھ جنوبی پنجاب کر رہے ہیں، جبکہ ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ (کمشنر آفس ملتان) اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نشتر ٹو ہسپتال بطور ممبران تحقیقات کا حصہ ہیں۔
سماعت کے لیے جاری کردہ نوٹس میں پرنسپل نشتر انسٹی ٹیوٹ آف ڈینٹسٹری، پروفیسر ڈاکٹر زبیر حسن اویسی اور بی ڈی ایس پروگرام کے ان تمام ڈاکٹروں اور طالبات کو نامزد کیا گیا ہے جنہوں نے شکایات درج کرائی تھیں یا جو اس معاملے سے براہِ راست وابستہ ہیں۔ ان میں 20 لیڈی ڈاکٹرز شامل ہیں۔ تمام فریقین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ وقت پر اصل دستاویزات اور ثبوتوں کے ساتھ پیش ہوں۔
کمیٹی کو سونپے گئے ٹی او آرز (TORs) کے مطابق، اسے نہ صرف الزامات کی صداقت جانچنی ہے بلکہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی نوعیت اور اس کے ذمہ دار افراد کا تعین بھی کرنا ہے۔ کمیٹی اپنی سماعت مکمل کرنے کے بعد پندرہ روز کے اندر اپنی مفصل رپورٹ اور سفارشات سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کو جمع کرانے کی پابند ہے، جس کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف حتمی محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ اس نوٹس کی نقول کمشنر ملتان، ڈپٹی سیکرٹری وزیراعلیٰ (ویلفیئر) اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایشیا اردو زرائع کے مطابق اس ہی کیس کو پہلے وائس چانسلر کے سامنے پیش کیا گیا تھا جہاں ان کی جانب سے انکوائری دبا دی گئی تھی جبکہ سٹوڈنٹس کی جانب سے سی ایم سیل مین درخواست کی گئی تھی،ایشیا اردو کو موصول وڈیوز مین بھی ایسی حرکات مبینہ طور پر دیکھنے میں آئیں ہیں، ڈاکٹر کے نام و دیگر ڈیٹا وقت کی مناسبت سے شائع کیا جائے گا۔

_2026_09_10_12_16_14_40243443.jpg)

Leave A Comment