میو ہسپتال میں بدانتظامی بے نقاب، ہزاروں مریض علاج اور ادویات سے محروم
لاہور کے میو ہسپتال لاہور میں بنیادی طبی سہولیات کی شدید کمی اور انتظامی مسائل سامنے آئے ہیں، جس سے ہزاروں مریض متاثر ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ہسپتال میں ٹوکن جاری ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں مریضوں کا مکمل علاج نہیں ہو سکا۔
اعداد و شمار کے مطابق ایک دن میں ہزاروں ٹوکن جاری کیے گئے، لیکن ان میں سے بڑی تعداد کا ریکارڈ کمپیوٹر سسٹم میں درج ہی نہیں کیا گیا۔ کئی مریضوں کا سٹیٹس “اِن پراسیس” میں ہی رہ گیا، جس سے انتظامی بدنظمی واضح ہوتی ہے۔
مزید یہ کہ چیک اَپ کروانے والے مریضوں کی بڑی تعداد کو ادویات بھی فراہم نہیں کی جا سکیں۔ کئی مریض فارمیسی کے بار بار چکر لگانے کے باوجود خالی ہاتھ واپس جانے پر مجبور ہوئے، جو کہ صحت کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہسپتال میں بجلی کی بندش کی صورت میں بیک اَپ کا نظام انتہائی کمزور ہے، جبکہ کمپیوٹرز کی کمی کے باعث ڈاکٹرز کو نسخے غیر روایتی طریقوں سے لکھنے پڑ رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں لیبارٹری اور دیگر شعبوں کا نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔
حکام نے سفارش کی ہے کہ ہسپتال میں کمپیوٹرز کی تعداد بڑھائی جائے، عملے کو بہتر تربیت دی جائے اور ڈاکٹرز کو پابند کیا جائے کہ وہ خود مریضوں کا ڈیٹا سسٹم میں درج کریں تاکہ مریضوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
_2026_05_02_20_42_37_42328939.jpg)
_2026_09_10_12_16_14_40243443.jpg)

Leave A Comment