کراچی: تھیلیسمیا کے علاج کیلئے جدید جینیاتی ٹیکنالوجی تحقیق کے آخری مراحل میں
آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں CRISPR-Cas9 پر تحقیق آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے، جس کے ذریعے خراب جینز درست کر کے تھیلیسمیا اور سکل سیل انیمیا کے مریضوں کو نارمل زندگی دی جا سکتی ہے۔
ماہرین بچوں پر کلینیکل ٹرائلز کے لیے تیار ہیں اور ریگولیٹری اجازت کے منتظر ہیں۔ تحقیق کی دو اہم اپروچز ہیں: ایکس ویوو (Ex-vivo) طریقہ، جس میں مریض کے اسٹیم سیلز میں جین ایڈیٹنگ کی جاتی ہے، اور دوا کی طرح انجیکٹ ایبل CRISPR کی تیاری۔
_2026_02_06_18_41_56_81319203.jpg)
_2026_09_10_12_16_14_40243443.jpg)

Leave A Comment