مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی حالات نے ایرانی معیشت کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ایرانی ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں 18 لاکھ کی ریکارڈ کم ترین سطح پر گر گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ لڑائی، بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ناکہ بندی کے باعث تہران کے لیے سٹیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات بھی معطل ہو چکی ہیں، جو کہ زرِ مبادلہ کا اہم ذریعہ تھیں۔ ایران کے مرکزی بینک کے مطابق سالانہ مہنگائی کی شرح پہلے ہی 65.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اور کرنسی کی اس حالیہ گراوٹ سے خوراک اور ادویات سمیت تمام درآمدی اشیا مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے، جس سے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔


اقتصادی اعداد و شمار کا جائزہ (ٹیبل):

معاشی اشاریہ تفصیلات
موجودہ شرح تبادلہ 1 امریکی ڈالر = 18,00,000 ایرانی ریال
سالانہ مہنگائی کی شرح 65.8% (اپریل 2026 تک)
کرنسی کی قدر میں کمی (2025) تقریباً 70%
متاثرہ برآمدی شعبے تیل، سٹیل، اور پیٹروکیمیکلز

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار