پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج نرسنگ ڈے منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا مقصد نرسنگ کے شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور نرسوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔

یہ دن ہر سال 12 مئی کو انٹرنیشنل کونسل آف نرسز کے زیر اہتمام منایا جاتا ہے، جبکہ یہ دن جدید نرسنگ کی بانی فلورنس نائٹنگیل کی سالگرہ کے طور پر بھی منسوب ہے۔ اس دن کو باقاعدہ طور پر 1965 سے منانے کا آغاز کیا گیا۔

پاکستان میں نرسنگ کے شعبے کی بنیاد بیگم رعنا لیاقت علی خان نے 1949ء میں رکھی تھی۔ ماہرین کے مطابق نرسنگ کو شعبہ صحت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔

ملک میں اس وقت نرسوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور اندازاً 15 لاکھ سے زائد نرسنگ اسٹاف کی ضرورت ہے۔ نرسیں طویل ڈیوٹی اوقات، کام کے شدید دباؤ اور محدود وسائل کے باوجود مریضوں کی خدمت میں مصروف رہتی ہیں۔

کووِڈ-19 کے دوران نرسوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر جس جذبے سے کام کیا، اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور مریضوں کے دباؤ کے باعث نرسوں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ چکی ہیں، جبکہ ایک اندازے کے مطابق 100 مریضوں کے لیے صرف ایک نرس دستیاب ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار