شعبہ صحت میں کام کرنے والی نجی تنظیموں نے سگریٹس پر ٹیکس میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایس پی ڈی سی اور سپارک نے نئے بجٹ میں سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ 92 ہزار سے زائد اموات تمباکو نوشی کے باعث ہوتی ہیں۔ تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا معاشی بوجھ تقریباً 1835 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ سگریٹ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن صرف 266 ارب روپے ہے۔

نجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سگریٹ کی قیمتیں خطے میں سب سے کم ہیں اور فروری 2023 کے بعد ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ سستے سگریٹ نوجوانوں میں تمباکو نوشی بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ تجویز دی گئی ہے کہ اکانومی برانڈز پر 35 روپے اور پریمیم برانڈز پر 21 روپے ٹیکس بڑھایا جائے، جس سے تقریباً 51 ارب روپے اضافی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار