ویب ڈیسک، 8 اپریل 2026: پینے کے صاف پانی کو عمومی طور پر صحت کا ضامن سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک نئی بین الاقوامی تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔

تحقیق کے مطابق پینے کے پانی میں موجود نمکیات انسانی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ اس تجزیے میں امریکہ، بنگلہ دیش، ویت نام، کینیا، آسٹریلیا، اسرائیل اور یورپی ممالک کی 27 مختلف آبادیوں کے ڈیٹا کو شامل کیا گیا۔

نتائج کے مطابق جو افراد زیادہ نمکین پانی استعمال کرتے ہیں، ان میں سسٹولک بلڈ پریشر اوسطاً 3.2 ملی میٹر مرکری اور ڈائسٹولک بلڈ پریشر تقریباً 2.8 ملی میٹر مرکری زیادہ پایا گیا۔ اس کے علاوہ ان میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ تقریباً 26 فیصد تک بڑھا ہوا دیکھا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ فرق انفرادی سطح پر معمولی محسوس ہو سکتا ہے، لیکن وسیع پیمانے پر متاثرہ آبادیوں کے لیے یہ عوامی صحت کے لیے اہم خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تحقیق میں زور دیا گیا کہ پینے کے پانی کے معیار، خاص طور پر نمکیات کی سطح پر نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ بلند فشارِ خون اور دیگر صحت کے مسائل کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار