طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ایچ آئی وی کے تقریباً 15 فیصد مریض غیر محفوظ انتقالِ خون کے باعث اس وائرس کا شکار ہوئے، جبکہ سفلس، ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریاں بھی خون کے ذریعے منتقل ہو سکتی ہیں۔ انہی خطرات کے پیشِ نظر نیشنل بلڈ ٹرانسفیوژن پالیسی متعارف کروائی گئی ہے۔
نئی پالیسی کے تحت محفوظ انتقالِ خون کو یقینی بنانے کے لیے سی ایل آئی اے اور نیوکلک ایسڈ ٹیسٹنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق اس جدید نظام کو مؤثر بنانے میں سب سے بڑا چیلنج ملک میں رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کے رجحان کی کمی ہے۔
آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے سیکشن آف ہیماٹولوجی اینڈ ٹرانسفیوژن میڈیسن کی سربراہ اور پاکستان سوسائٹی آف ہیماٹولوجی کی صدر پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ معیز نے بتایا کہ پاکستان میں بلڈ بینکنگ کا نظام طویل عرصے تک فریگمینٹڈ رہا، جہاں مختلف معیار کے بلڈ بینکس کام کرتے رہے۔ اگرچہ ماضی میں پالیسی اور کم از کم معیارات موجود تھے، تاہم اٹھارویں ترمیم کے بعد ہر صوبے میں بلڈ بینکنگ کے لیے الگ ریگولیٹری اتھارٹیز قائم کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی (SBTA) کے قیام کے بعد بلڈ بینکنگ میں فریگمینٹیشن کے خاتمے اور ریجنل بلڈ سینٹرز کے قیام میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ اس ماڈل کے تحت ملک بھر میں 18 ریجنل بلڈ سینٹرز قائم کیے گئے، جس سے آئی ٹی ٹیکنالوجی، اسکریننگ سسٹمز اور مجموعی معیار میں بہتری آئی۔ یہ مراکز اسپتالوں سے منسلک رہے اور مریضوں کو مفت اور محفوظ خون فراہم کیا گیا۔ اصلاحات کا یہ عمل 2014 سے 2020 تک جاری رہا۔
ڈاکٹر بشریٰ معیز کے مطابق اب 2030 تک کے لیے نئی قومی بلڈ ٹرانسفیوژن پالیسی تیار کی گئی ہے، جس میں مجموعی طور پر 15 اہداف شامل ہیں۔ ان اہداف کی بنیاد تین اہم ستونوں پر ہے، جن میں گورننس اور اسٹرکچر، مریضوں کی حفاظت اور نظام کی پائیداری شامل ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت بلڈ اور بلڈ پروڈکٹس، بشمول پلازما سے تیار ہونے والی مصنوعات، کو بطور دوا (ڈرگ) تسلیم کیا گیا ہے، جس کے بعد بلڈ بینکس کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ شراکت داری میں ریگولیٹ کیا جائے گا۔

_2026_09_10_12_16_14_40243443.jpg)

Leave A Comment