حکومت کے "کیش لیس پاکستان" اقدام کے تحت ملک میں ڈیجیٹل مالی لین دین میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگیوں میں شامل مرچنٹس کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

"راست کیو آر کوڈ" نظام نے ملک بھر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث عام صارفین اور کاروباری افراد کے لیے لین دین آسان ہو گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ڈیجیٹل بینکنگ استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 13 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے، جبکہ سالانہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کی تعداد 6.9 ارب سے بڑھ کر 11.3 ارب تک پہنچ گئی ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے ایک سالہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ دسمبر 2026 تک 25 وفاقی اور صوبائی اداروں کو "راست" نظام کے تحت مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت سرکاری اداروں میں تقریباً 75 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے وصول کی جا رہی ہیں، جبکہ شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کروایا جائے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں جدید اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے فروغ کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار