نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں بزنس کمیونٹی پاکستان نے حکومت کو اہم تجاویز پیش کی ہیں جن میں ٹیکس نظام میں بڑی اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تاجر برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ سپر ٹیکس ختم کیا جائے اور کارپوریٹ ٹیکس میں بتدریج کمی کی جائے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ تجویز دی گئی ہے کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے تاجروں پر ماہانہ 10 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس عائد کیا جائے، جس کی وصولی بجلی کے بلوں کے ذریعے کی جائے۔

آٹو پارٹس پر سیلز ٹیکس ختم کرنے، امپورٹ ڈیوٹی کو 35 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کرنے اور استعمال شدہ گاڑیوں کی حد 3 سے بڑھا کر 5 سال کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ اسی طرح گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 30 لاکھ سے بڑھانے یا اوپن اینڈ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

تاجر برادری نے یہ بھی کہا ہے کہ نان فائلرز کو محدود سہولیات دی جائیں اور تین سے زیادہ گاڑیاں رکھنے کی اجازت نہ ہو۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے برآمدات بڑھانے کی خاطر ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر ایکسپورٹ ریبیٹ اور ماحول دوست مشینری پر سبسڈی دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ ڈیری سیکٹر پر اضافی ٹیکس ختم کرنے، دودھ اور دیگر مصنوعات پر ٹیکس کم کرنے اور کاروبار رجسٹریشن کے دوران لگائے گئے اضافی ٹیکس واپس لینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

تجاویز میں یہ بھی شامل ہے کہ “برانڈ پاکستان” کے تحت یورپ، ایشیا اور دیگر خطوں کے ساتھ ڈیوٹی فری تجارت کو فروغ دیا جائے، جبکہ آئی ٹی اور اسٹارٹ اپ سیکٹر کو ٹیکس چھوٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے گرانٹس فراہم کی جائیں۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار