لاہور: ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب انسانی آواز کا تجزیہ کر کے کینسر جیسی بیماریوں کی ابتدائی علامات کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر گلے کا کینسر کی تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جسے وائس باکس کینسر بھی کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کی بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ موجودہ ٹیسٹ جیسے اینڈوسکوپی اور بایوپسی نہ صرف تکلیف دہ ہوتے ہیں بلکہ فوری دستیاب بھی نہیں ہوتے۔

تحقیق کے دوران ہزاروں افراد کی آوازوں کا تجزیہ کیا گیا، جس میں آواز کی باریکیوں جیسے پچ، شدت اور شور کے تناسب میں معمولی تبدیلیوں کو جانچا گیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ خاص طور پر مردوں میں آواز کے مخصوص پیٹرنز کینسر یا ابتدائی رسولیوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں، جبکہ خواتین کے حوالے سے مزید تحقیق درکار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ایسے نظام کی شکل اختیار کر سکتی ہے جو صرف آواز سن کر بیماریوں کی ابتدائی تشخیص ممکن بنائے گی، جس سے علاج بروقت شروع کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ پیش رفت صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا ایک اہم قدم ہے، جو تشخیص کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار