محمد عارف کالرو


کپاس جسے وأئٹ گولڈ  کہا جاتا ہے  نہ صرف ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ لاکھوں کاشتکاروں مزدوروں دیھی خواتین کا روزگار بھی کپاس کی فصل سے وابستہ ہے  مقامی مثالی کاشت کار عامر خان چانڈیو  کا کہنا ہے کہ ایک دھائی سے کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی ا ر ی ہے ٹیکسٹأل سیکٹر کو خام مال کی قلت کا سامنا ہے اور درامدات پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے  جس سے ملکی معیشت اور زرعی خود کفالت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں کمی کی بنیادی وجہ  حکومتی عدم توجہ اور کسان دوست پالیسی نہ ہونا ہے۔  جبکہ دیگر بنیادی وجوہات میں غیر معیاری سیڈ موسمیاتی تبدیلی پانی کی عدم دستیابی زرعی تحقیق میں سرمایہ کاری کی کمی اور کپاس کے لیے مراعاتی پالیسیوں  کے فقدان کے باعث پی سی جی اے  کے اعداد و شمار کے مطابقپاکستان میں کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 46 لاکھ گانٹھ سے کم ہو کرصرف 56 لاکھ گانٹھ پر اگئی ہے  جبکہ ملکی ضرورت ایک کروڑ ساٹھ لاکھ گانٹھ ہےجو نہ صرف انڈسٹری کے پہیہ رکنے کا خدشہ ہے بلکہ کپاس کی گرتی پیداوار غریب خواتین کے روزگار کاشتکاروں کے مسائل میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ملکی برامدات کے لیے بھی بڑا دھچکا ہے اس سلسلے میں زرعی ماہر رائے ظفر عباس کا کہنا ہے کہ  ترقییافتہ ممالک میں کپاس کی پیداوار اور معیار کو بہتر بنانے کیلئے تحقیقاتی اداروں کو جدید بأیو ٹیکنالوجی جنیاتی بہتری  ہے  لیکن پاکستان میں اس شعبے میں سنجیدہ حکمت عملی کا فقدان ہے  پاکستان کے کپاس کے سب سے بڑے زرعی تحقیقاتی ادارےسنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان  کو نئی اقسام کی تیاری کے لیے فنڈز دینے کی بجائے زرعی سائنسدانوں ودیگر ملازمین کو تنخواہیئں دینے کے پیسے بھی نہیں ہیں اور وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہیں پاکستان میں۱۹۹۱۹۲ میں  ایک کروڑ  اٹھائیس لاکھ گانٹھ کپاس کی بمپر کراپ ھوئی تھی۲۰۰۴ ۵ میں ڈیڑھ کروڑ گا نٹھ جبکہ ۲۰۱۴۱۵ میں بھی ایک کروڑ ۴۶ لاکھ گانٹھ  پیداوار ھوئیلیکن  مختلف  حکومتوں کی  پالیسیوں کی وجہ سے گزشتہ سال  ۵۰۵ ملین گانٹھ پیداوار ھوئئ  جب  کاشتکار کو اس کی فصل کا مناسب  معاوضہ نہیں ملتا تو وہ متبادل فصلوں پر شفٹ ھو جاتا ہے  پھرحکومت کو ملکی ضروریات پوریکرنے کے لیے اربوں ڈالرز کا کثیر زرمبادلہ خرچ  کرکے درامدات کا سہارا لینا پڑتا ہے محکمہ زراعت کے مطابق ملکی کاٹن پر جی ایس ٹی  اٹھارہ فیصد ہے جبکہ غیر ملکی کاٹن کی درامد پر ٹیکس نہیں ہےمقامی کاشت کار کاشف نے بات کرتے ہوءے بتایا کہ  حکومت کی جانب سے کپاس کی امدادی قیمت کا اعلان نہیں کیا جاتا  کاشتکار کی سستے داموں کپاس سیل ھوتی ہے  جب مڈل مینیا بیوپاری کپاس خرید کر لیتا ہے تو کپاس کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا  ہے
دوسری جانب زرعی مداخل(جو چیزیں زراعت کے شعبے میں استعمال ہوں،زرعی الات کھادیں وغیرہ)انتہائی مہنگے ھںیںروزانہ کی بنیاد پر ریٹ کم و زیادہہو رہے ہیں اس لیے اس پر بتایا نہیں گیا پاکستان فاۀبر سیکورٹی کو ئقینی بنانے کیلئے کپاس کی پیداوار میں اضافہ ناکزیر ہے کیونکہ ملکی ٹیکسٹأل کا دارومدار مقامی خام مال کی دستیابی پر ہے اگر تحقیقاتی ادارے فعال کیے جائیں کسانوں کو جدید سیڈ اور پیداواری ٹیکنالوجی فراہم کی جائےکپاس کے لیے جامع پالیسی تشکیل دی جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ اضافی پیداوار کو برامد کرکے زرمبادلہ کما سکتا اگر زاعت پر کپاس کے لیے غیر ملکی مشاہدہ کریں تو انڈیا میں 13 ملین ہیکٹرز رقبے پر کپاس کاشت ہوتی ہے اس سے 320۔5 لاکھ بیلز پہداوار  ھاصل کی جاتی ہےانٹرنیٹ پر ڈیٹا موجود ہے منسٹری (https://www.texmin.gov.in/static/uploads/2025/07/db767d1d1501e27672906cd8c320c5f4.pdf )؟جبکہ پاکستان میں کاشتکاروں کو  نہ تو سپورٹ  پرائس دی جاتی ہے اور نہ ہی انہیں جدید ٹیکنالوجی دی جاتی ہے  حکومت کو چایےکہ  2025 میں 50 لاکھ ایکڑ اراضی پر کپاس کاشت ہوئی جبکہ پیداوار 56 لاکھ بیلز ہوئیں فی ایکڑ پیداوار 1۔12 ریکارڈ کی گئی پنجاب میں 35 لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت جبکہ پیداوار 27 لاکھ بیلز ریکارڈ کی گئی سندھ میں 13 لاکھ ایکڑ اراضی پر کاشت جبکہ 29 لاکھ بیلز پیداوار حاصل ہوئی بلوچستان میں 2 لاکھ ایکڑ  رقبے کپاس کاشت پیداوار   ایک لاکھ 78 ہزار بیلز حاصل ہوئی (ُپی سی جی اے کی ویب ساءٹ کے مطابق )اگر اب بھی کپاس کے کاشتکاروں کو جدید پیداواریٹیکنالوجی سے اگاہی پانی کی دستیابی ممکن  اور قیمتوں کا مستحکم نظام متعارف کرایا جائے تواس فصل دوبارہ منافع بخش بنایا جا سکتا ہے ورنہ آنے والے دنوں میں  صورتحال سنگین ہو سکتی ہے  حکومت کو ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے روئی کی درآمد پر انحصار کرنا پڑے گا جس پر اربوں ڈالرز کا کثیرزرمبادلہ خرچ کرنا پڑے گا جس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اسی طرح زرعی تحقیق پر زیادہ توجہ دی جائے کیونکہ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی  طویل عرصے سے  فنڈز کی عدم فراہمی  کی وجہ سے تحقیقی ادارے غیر فعال ھو کر رہ گئے ہیں سی سی ار ائی کے ترجمان ساجد محمود کا کہنا ہے کہ  ملک میں جدید اقسام کی تیاری میں مشکلات کا  زیادہ سامنا کرنا پڑا ہے  پیداوار پر منفی اثر پڑا ہے  اگر تحقیقاتی اداروں کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے ان کے تنخواہوں کے مسائل حل اور  موسمی حالات کے مطابق نئی اقسام کی تیاری کے لئئے فنڈنگ کی جائے تومٹبت نتائج نکل سکتے ہیں  کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے کسان دوست پالیسی بنائی جائے  اس سے نہ صرف پاکستان کی ٹیکسٹأل  چلے گی بلکہ ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ھوںگے ملکی معیشت بھی مستحکم ھو گی جبکہ  کاشتکاروں کو مناسب نرخ نہ ملنے کی وجہ سے  انہوں نے متبادل فصلوں پر منتقل ہونا شروع کردیا ہے وہ کپاس کی بجائے گنے  مکئی  چاول ودیگر فصلوں کو ترجیح دے رہے ہیں اسی وجہ سے اس سال کپاس کی کاشت کا ہدف کم کر کے 32 لاکھ ایکڑ مقرر کر دیا گیا ہے

روزنامہ ایشیااردو میں اشاعت شدہ کالم پڑھیں
کسان بورڈ ضلع ملتان کے سابق صدر ومثالی کاشتکار ملک فیاض الحسن بھٹہ نے کہا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے کسان مسائل کا شکار ہے  فصلوں کا  مناسب معاوضہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ وقفہ وقفہ سے متبادل فصلوں پر شفٹ ہوتے رہتے ہیں تاکہ مناسب معاوضہ ملے لیکن زیادہ تر انہیں مایوسی ہوتی ہے اگر حکومت صرف زرعی شعبے کو ریلیف دے دے تو بیرونی قرضے کی ضرورت نہیں پڑے گی  ورنہ حکومت کو ہر سال اربوں ڈالرز کا کثیر زرمبادلہ خرچ کرکے ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے روئی ودیگر چیزیں درآمد کرنا پڑیں گی  جس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت زرعی  شعبے کو ترجیح بنیادوں پر ریلیف دے ورنہ زرعی شعبہ مزید زبوں حالی کا شکار ہو گا مٹالی کاشتکار ڈاکٹر عدیل اختر نے کہا ہے کہ  کپاس کے کاشتکاروں کو دوبارہ کپاس کی کاشت  برھانے کے لیئے راغب کرنے کے لیے انہیں فصل کا بہتر معاوضہ دینا ہو گا  دوسرا اعلی  کوالٹی کے سیڈ  کی دستیابییقینی بنانا ہوگی ورنہ ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے اربوں ڈالرز کا کٹیرزرمبادلہ خرچ کر کے روئی کی درامدات پر انحصار  کرنا پڑے گا پاکستان ایگری فورم کے چیرمین راو افسر علی کا کہنا ہے کہ ملک میں کپاس کی گرتی پیداوار ٹیکسٹائل کی صنعت اور لاکھوں خاندانوں کا  روزگار  خطرے میں ہے  یہ صرف کپاس کی فصل نہیں سکڑ رہی بلکہ ملکی معیشت زوال کا شکار ہو رہی ہے اگر حکومت صرف زرعی شعبے خو ہی خصوصی ریلیف دے دے تو نہ صرف ملکی معیشت مستحکم ہو گی بلکہ بیرونی قرضوں پر انحصار کم ہو جائے گا
سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ  ملتان کی ڈائریکٹر مس  صباحت حسین نے کہا ہے کہ مالی  مشکلات کے باوجود ان کا ادارہ کاشتکاروں کی کپاس کی کاشت و پیداوار میں اضافے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اب تک  40 سے زائد کپاس کی نئی اقسام ان کا ادارہ متعارف کروا چکا ہے ان کی اقسام نے پیداوار بڑھانے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے  اب بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق نئی اقسام پر تحقیق جاری ہے اگر ان کے ادارے کو مزید فنڈز مل جائیں تو تحقیق میں مزید بہتری آسکتی ہے

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار