خصوصی رپورٹ 

 عبدالرحیم

صوفیوں کے شہر ملتان میںگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی صاف پانی کی قلت پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ جنوبی پنجاب کے اس بڑے شہر میں موسم گرما کے دوران درجہ حرارت اکثر 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے، جبکہ آبادی میں اضافے کے باعث پانیکی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں شہریوں کے لیے محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی ایک بنیادی ضرورت ہے، مگر عملی صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق واسا ملتان شہر میں پانی کی فراہمی کے لیے درجنوں ٹیوب ویلز، ذخیرہ گاہیں اور تقریباً 1521 کلومیٹر پائپ لائن نیٹ ورک چلا رہی ہے، جبکہ واسا کے منیجنگ ڈائریکرعبدالاسلام نے بتایا کہ ادارہ شہریوں کو روزانہ تقریباً 41 ملین گیلن پینے کا پانی فراہم کر رہا ہے۔

واسا کے موجودہ نظام میں 84 ٹیوب ویل اور تقریباً 1,500 کلومیٹر واٹر سپلائی نیٹ ورک شامل ہے، جس کے ذریعے شہر کے مختلف علاقوں میں دن میں متعدد اوقات پانی فراہم کیا جاتا ہے ۔ واسا کی ویب سائٹ کے مطابق شہر میں 84 فعال ٹیوب ویلز اور 18 اوورہیڈ ریزروائرز بھی نظام کا حصہ ہیں۔

روزنامہ ایشیا اردو میں پبلش کی گی یہ خصوصی رپورٹ پڑھیں

واسا کے ترجمان حسن محمود بخاری کے مطابق مختلف ادوار میں تقریباً 385 واٹر فلٹر پلانٹس نصب کیے گئے تھے تاکہ شہریوں کو صاف پینے کا پانی میسر آ سکے ابتدا میںیہ منصوبہ امید کی کرن سمجھا گیا، مگر وقت کے ساتھ متعدد فلٹر پلانٹس غیر فعال ہوتے گئے۔ کئی علاقوں میں پلانٹس بند، مشینری خراب یا بجلی سے محروم پائے گئے ہیں جبکہ فنڈ کم ہونے پر 120 سے زیادہ خراب رہتے ہیں ،جس میں علاقہ سوج میانی،سمیجہ آباد،گارڈن ٹاون ،نواب پور روڈ سیمت دیگر علاقے شامل ہیں

ترجمان واسا حسن بخارینے بتایا کہ واسا کے تمام پلانٹس اب پنجاب حکومت کی بنای گی صاف پانی پر صاف پانی اتھارٹی  کے حوالے کءے جا رہے ہیں جو ان کی دیکھ بھال کرے گا  https://saafpani.com.pk/

“شہر میں نصب تمام فلٹر پلانٹس مکمل طور پر فعال نہیں۔ کچھ پلانٹس بجلی کے مسائل، کچھ مشینری کی خرابی اور بعض فنڈز کی کمی کے باعث متاثر ہیں۔ مرحلہ وار مرمت جاری ہے، لیکن گرمیوں میں طلب بڑھنے سے دباؤ زیادہ ہو جاتا ہے۔”

نیو ملتان، ممتاز آباد، شاہ رکن عالم، چونگی نمبر 9 اور گلگشت کے متعدد علاقوں میں شہریوں نے شکایت کی کہ فلٹر پلانٹس یا تو مستقل بند ہیںیا پانی کا معیار تسلی بخش نہیں۔ بعض مقامات پر شہریوںخالد،یوسف،حامد،راشد بھٹہ،حماد نے بات کرتے ہوءے بتایا ہے  اکثر گھروں میں واٹر سپلاءی والے پانی میں بدبو، ذائقے کی خراب یا مٹی ملا پن محسوس ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہم پریشان ہوتے ہیں اور پانی باہر پراءیوٹ فلٹر پلانٹ سے 3 روپے فی لیٹر خرید کر گزارا کرتے ہیں

ملتان  سرکاری واٹر لیباٹری پرانا شجاع آباد روڈ پر کام کرنے والے ملازم جو لیباٹریسائنسٹسٹ ہے نے بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت بتایا کہ پینے کے پانی میں آرسینک کی محفوظ حد 10 مائیکروگرام فی لیٹر (µg/L) ہے۔

ملتان میں مختلف تحقیقی مطالعات میں آرسینک کی مقدار 3 سے 185 µg/L تک ریکارڈ کی گئی، جبکہ تقریباً 99٪ نمونے ڈبلیو ایچ او کی مقررہ حد سے زیادہ پائے گئے۔

جن علاقوں میں پانی کی حالات زیادہ خراب ہیں ان میں ملتان سٹی (اندرون شہر اور پرانے شہری علاقے) میں آرسینک کی اوسط اور زیادہ سے زیادہ مقدار سب سے زیادہ ریکارڈ ہوئی، بعض نمونوں میں تقریباً 185 µg/L تک۔

ملتان صدر دوسرا زیادہ متاثرہ تحصیل/علاقہ قرار دیا گیا، جہاں صحت کے خطرات WHO اور USEPA کے معیار سے بلند پائے گئے۔

2023 کے ایک مطالعے میں ملتان کے مختلف علاقوں اور اسکولوں کے پانی کے نمونوں میں آرسینک 15 سے 70 µg/L کے درمیان پایا گیا۔ بعض کم ترقییافتہ آبادیوں میں آلودگی زیادہ تھی۔

پیر کالونی (Peer Colony) میں آرسینک کے ساتھ ساتھ بیکٹیریا (Coliform) کی آلودگی بھی بہت زیادہ رپورٹ ہوئی، جسے صحت کے لیے انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا۔

ملتان سے متعلق 2021 میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں سے لیے گئے 30 نمونوں میں سے 73 فیصد نمونوں میں آرسینک اور 80 فیصد نمونوں میں فلورائیڈ مقررہ محفوظ حد سے زیادہ پائے گئے۔ مزیدیہ کہ 53 فیصد نمونوں میں دونوں عناصر ایک ساتھ حد سے زائد موجود تھے

https://link.springer.com/article/10.1007/s13201-021-01531-0?utm_source=chatgpt.com

واسا کے ترجمان کے مطابق

“ہمارے اپنے ٹیسٹنگ ریکارڈ میں بھی بعض پرانے علاقوں میں آرسینک اور فلورائیڈ کی مقدار تشویشناک دیکھی گئی تھی، اسی لیے فلٹریشنیونٹس لگائے گئے۔ تاہم مسلسل مانیٹرنگ اور بروقت فلٹر تبدیلی نہ ہو تو مسئلہ دوبارہ سامنے آ سکتا ہے۔”

ماہرین صحت کے مطابق آلودہ پانی معدے، جلد، گردوں، دانتوں اور ہڈیوں کے امراض کا سبب بن سکتا ہے۔ نشتر اسپتال سے وابستہ ڈاکٹرمسعود افضل (ماہر گردہ) کے مطابق گرمیوں میں پانی سے پیدا ہونے والے انفیکشنز میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہےشہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری سطح پر پانی کے معیار سے متعلق اعداد و شمار موجود ہیں تو انہیں عوام کے سامنے باقاعدگی سے جاری کیا جانا چاہیے تاکہ لوگ حقیقت سے آگاہ رہ سکیں۔

ماہرین کے مطابق فوری اقدامات میں شامل ہونا چاہیے:

غیر فعال فلٹر پلانٹس کی فوری بحالی

ہریونین کونسل میں پانی کے معیار کی ماہانہ رپورٹ جاری کرنا

آرسینک و فلورائیڈ ٹیسٹنگ لیب کا فعال نظام

پائپ لائن لیکیج اور سیوریج ملاپ کی روک تھام

نئے رہائشی علاقوں میں اضافی فلٹر پلانٹس کی تنصیب

آج صورتحال یہ ہے کہ ملتان کا شہری پانی تو پیتا ہے، مگر اعتماد سے نہیں۔ مسئلہ صرف قلت کا نہیں، معیار کا بھی ہے۔ کیونکہ آخرکار پانی صرف ایک سہولت نہیں، زندگی کی بنیادی ضمانت ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار