پودوں کی بروقت چھدرائی کو یقینی بنایا جائے۔

زرعی ماہرین کے مطابق جب گھیا کدو کے پودے 3 سے 4 پتے نکال لیں تو ایک ہی جگہ پر اگنے والے اضافی پودوں کو نکال دینا چاہیے تاکہ باقی پودوں کے درمیان مناسب فاصلہ برقرار رہے۔ اگر چھدرائی میں تاخیر کی جائے تو بچ جانے والے پودوں کی بڑھوتری اور پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔

محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو آبپاشی کا خاص خیال رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ بارش کی صورت میں پانی دینے کا دورانیہ بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جڑی بوٹیوں کے خاتمے کے لیے 3 سے 4 مرتبہ گوڈی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر دوسری چنائی کے بعد گوڈی کرنے سے نہ صرف کھیت جڑی بوٹیوں سے صاف رہتا ہے بلکہ پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ گوڈی کے بعد پودوں کے گرد مٹی چڑھانا بھی ضروری ہے تاکہ پودے مضبوط ہو سکیں۔

انہوں نے زور دیا کہ جدید زرعی طریقوں پر عمل کر کے کاشتکار اپنی فصل کی کوالٹی اور پیداوار میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔

 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار