شاعرہ تابندہ کنیز زہراء

جو ہمیں باتوں میں خوش مزاج سمجھتے ہیں
مسکراہٹ میں باکمال سمجھتے ہیں
لہجوں میں لاجواب سمجھتے ہیں
انہیں کیا خبر
ہم لفظوں میں خاموشی سمیٹے پھرتے ہیں
ہنسی میں بے چینی چھپاتے ہیں
اور لہجوں میں درد سجاتے ہیں
جو ہمیں اُجالوں میں ہنستے دیکھتے ہیں
محفلوں میں جگمگاتے دیکھتے ہیں
منزلوں تک جیتتے دیکھتے ہیں
انہیں کیا خبر
ہم اندھیروں میں ٹوٹ کر روتے ہیں
تنہائیوں کو اوڑھ کر سوتے ہیں
اور منزلوں تک
خود کو گرتا ہوا ڈھوتے ہیں
جو ہمیں بارشوں میں بھیگتے دیکھتے ہیں
ساحلوں پر چلتے دیکھتے ہیں
ہواؤں سے کھیلتے دیکھتے ہیں
انہیں کیا خبر
ہم برسات کے دیوانے
مٹی میں رہ کر جیتے ہیں
اور طوفانوں کے رخ
خاموشی سے موڑ دیتے ہیں
جو ہمیں دیکھ کر
محض اندازے لگاتے ہیں
انہیں کیا خبر
وہ اتنا ہی جان پاتے ہیں
جتنا
ہم خود دکھاتے ہیں

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار