تحریر۔ نعمان حفیظ
 

امریکہ کے دورے پر موجود فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حالیہ دنوں واشنگٹن میں پاکستانی کمیونٹی سے ایک بھرپور اور ولولہ انگیز خطاب کیا، جو نہ صرف ایک قومی وقار کا مظہر تھا بلکہ ایک جذباتی لمحہ بھی۔ ہال میں موجود اوورسیز پاکستانیوں نے "جیوے جیوے پاکستان" کے نعرے لگا کر نہ صرف اپنے جوش و خروش کا اظہار کیا بلکہ مادرِ وطن کے ساتھ اپنی محبت، وابستگی اور فخر کو بھرپور انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔

یہ خطاب محض ایک روایتی ملاقات نہیں تھی، بلکہ پاکستان کی عسکری قیادت اور اوورسیز کمیونٹی کے درمیان ایک جذباتی رشتہ استوار کرنے کی ایک اہم کڑی ثابت ہوا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں آپریشن "بنیان مرصوص" کے دوران پاک فوج کی شاندار کارکردگی، قربانی، اور پیشہ ورانہ مہارت پر روشنی ڈالی، جسے اوورسیز پاکستانیوں نے بے حد سراہا اور پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستانی کمیونٹی کو ملک کا "سفیر" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں موجود پاکستانی نہ صرف ملک کی شناخت کا ذریعہ ہیں بلکہ ان کی معاشی، سماجی اور عالمی سطح پر خدمات قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے تارکین وطن کو یقین دلایا کہ پاک فوج اور ریاست پاکستان، ان کے مسائل، قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

یہ خطاب دراصل نہ صرف ایک عسکری شخصیت کا بیان تھا بلکہ ایک قومی پیغام تھا — محبت، اتحاد، اعتماد اور قربانی کا۔ فیلڈ مارشل نے اپنے عمل اور الفاظ سے یہ باور کروایا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر محاذ پر مضبوطی سے ڈٹی ہوئی ہیں اور اوورسیز پاکستانیوں کی دعا اور حمایت ہی ہماری اصل طاقت ہے۔

یہ خطاب اس بات کی بھی یاد دہانی تھا کہ جہاں کہیں بھی پاکستانی موجود ہیں، وہ اپنے ملک کے پرچم کے محافظ ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کے نعرے، آنکھوں میں چمکتے جذبات، اور وطن سے محبت کا اظہار اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستان صرف ایک خطہ نہیں، بلکہ ایک جذبہ ہے، جو ہر دل میں بستا ہے۔

قوم کو اپنی بہادر فوج پر فخر ہے، اور دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں کو اپنی قیادت پر۔ یہ ملاقات، یہ خطاب، اور یہ جذبہ… سب مل کر ایک نئی امید، ایک نیا حوصلہ اور ایک روشن پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
مگر نہایت افسوس ہے کہ امریکہ میں موجود متنازعہ سیاسی جماعت پی ٹی آئی کی مقامی قیادت اور ورکرز کی جانب سے پاک فوج کے خلاف حالیہ احتجاج نہایت افسوسناک اور شرمناک واقعہ ہے، جس نے بیرون ملک موجود پاکستانی کمیونٹی کے چہروں کو شرمندہ کر دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اوورسیز پاکستانیوں سے ملاقات کر کے انہیں قومی ترقی کا اہم حصہ قرار دے رہے تھے، چند عناصر نے ذاتی سیاسی مفادات کی خاطر ریاستی اداروں کو نشانہ بنا کر ملک دشمن ایجنڈے کو فروغ دینے کی کوشش کی۔

یہ احتجاج نہ صرف غیر ذمے دارانہ تھا بلکہ اس نے دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے اندرونی اختلافات کو عالمی سطح پر اچھالا جا سکتا ہے۔ جو آوازیں دشمن ملکوں میں اُٹھنی چاہئیں تھیں، وہ بدقسمتی سے اپنے ہی ہم وطنوں کے ذریعے بیرونِ ملک بلند ہوئیں۔ یہ احتجاج دراصل دشمن کی زبان بولنے کے مترادف تھا۔

پاک فوج وہ ادارہ ہے جو سرحدوں پر جانوں کا نذرانہ دے کر 22 کروڑ عوام کی حفاظت کر رہا ہے۔ یہی وہ ادارہ ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی، دہشت گردوں کے نیٹ ورکس توڑے اور وطن عزیز کو محفوظ بنایا۔ ایسے میں چند مفاد پرست عناصر کا احتجاج، نہ صرف شہداء کی قربانیوں کی توہین ہے بلکہ قومی وحدت پر حملہ بھی۔

اس احتجاج کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ بیرونِ ملک پاکستان کا جھنڈا تھام کر اپنی ہی فوج کے خلاف بولنا، کسی بھی لحاظ سے حب الوطنی نہیں بلکہ بدنیتی، ذاتی انا اور سیاسی اناؤ کا مظاہرہ ہے۔ یہ عناصر بھول گئے کہ وہ پاکستان کے سفیر ہیں، اور دنیا میں ان کے ہر عمل کا اثر وطن کی ساکھ پر پڑتا ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہایت درست کہا کہ اوورسیز پاکستانی ہمارے اصل سفیر ہیں۔ مگر چند بدنیت افراد نے اپنے ذاتی ایجنڈے کو قومی مفاد پر ترجیح دے کر پوری کمیونٹی کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ ایسی حرکات صرف اور صرف دشمنوں کو خوش کرتی ہیں، قوم کو نہیں۔

یہ وقت اتحاد، یکجہتی اور مثبت کردار ادا کرنے کا ہے، نہ کہ اپنے ہی اداروں کو عالمی اسٹیج پر بدنام کرنے کا۔ ایسے عناصر کو پاکستانی کمیونٹی سے علیحدہ کیا جانا چاہیے تاکہ باقی دنیا یہ جان سکے کہ پاکستان کا اصل چہرہ وہی ہے جو فیلڈ مارشل کے استقبال میں "جیوے جیوے پاکستان" کے نعروں کے ساتھ دکھائی دیا — ایک متحد، باوقار اور وفادار قوم

پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار