سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے، اور گورننس و انتظامی نظام پر گفتگو کوئی ممنوعہ موضوع نہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے فیصلے سوچ سمجھ کر کیے جانے چاہئیں اور اس سلسلے میں پڑوسی ممالک کے تجربات سے بھی رہنمائی لی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اداروں کی بحالی کے لیے مکالمہ ناگزیر ہے جبکہ مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ملک محمد احمد خان نے زور دیا کہ منتخب نمائندوں کو آئینی اختیارات کے مطابق مؤثر کردار دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کی اتحادی ہے اور حکومت اس کے ووٹوں سے قائم ہے، لہٰذا جمہوری عمل کے استحکام کے لیے تمام شراکت داروں کا کردار اہم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی جیسے سنگین چیلنج کا سامنا ہے، جبکہ ففتھ جنریشن وار بھی ملک کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی کے مطابق ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر ہم آہنگی اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔

 

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار