نوجوانوں کے لئے سوشل میڈیا بطور کیئرئیر
تحریر✍️ نسیم اختر🌷
پاکستان کا نوجوان آج جس دنیا میں سانس لے رہا ہے، اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ایسی چمکتی دمکتی دنیا ہے جس کا دروازہ ایک فون کے بٹن سے کھل جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے رابطے، تفریح اور اظہار کے ساتھ روزگار کے نئے راستے بھی پیدا کیے ہیں۔ کوئی بھی لڑکا یا لڑکی ایک ویڈیو بنا کر ہزاروں لوگوں تک اپنی آواز پہنچا سکتا ہے، اپنے خیالات کو عام کر سکتا ہے اور اپنے لیے روزگار کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ مگر اس چمک کے پیچھے جو تھکن، جدوجہد اور محنت چھپی ہے، وہ عام نظر سے اوجھل رہتی ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ نوجوان اس میدان کی طرف آ رہے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسے ایک آسان راستہ سمجھ کر آتے ہیں۔ جیسے وہ سمجھتے ہیں کہ جس نے پڑھائی سے جان چھڑائی، وہ یہاں آسانی سے نام اور دولت بنا لے گا۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
سوشل میڈیا کا میدان روایتی شعبہ نہیں کہ جہاں استاد ہو، نصاب ہو، سند ہو اور ادارہ ہو جو راستہ دکھائے۔ یہاں ایک فرد کا کام، اس کی صلاحیت اور اس کی ثابت قدمی ہی اس کا تعارف ہے۔ نوجوان صرف کامیابی کا انجام دیکھتے ہیں مگر اس سفر کی مشقت نہیں دیکھتے۔ انہیں وہ گاڑیاں، شہرت اور رنگین زندگی دکھائی دیتی ہے جو چند معروف چہروں نے حاصل کی، لیکن وہ نہیں دیکھ پاتے کہ اس کے پیچھے کتنی ناکامی، مسلسل جدوجہد، ذہنی دباؤ اور قدم قدم پر خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
یہ راستہ صرف ہنسی مذاق، تماشے یا سستی شہرت کا راستہ نہیں۔ یہاں لفظ، آواز، چہرہ اور رویہ سب کچھ تول کر پیش کرنا پڑتا ہے۔ یہاں وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے ہوئے ذوق کو سمجھنا پڑتا ہے، لوگوں کی نفسیات کو جاننا پڑتا ہے اور اس پر گرفت رکھنی پڑتی ہے۔ یہ سفر صرف تخلیق کا نہیں بلکہ سمجھ بوجھ، ذمہ داری، تحقیق اور اخلاق کا سفر ہے۔ کوئی بھی فرد محض ضد، قسمت یا جلدی کی خواہش کے سہارے اس راستے پر چل کر منزل نہیں پا سکتا۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا کو تفریح کی آنکھ سے دیکھتی ہے، پیشے کی آنکھ سے نہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ ایک ویڈیو بنائی، ہنسی مذاق کیا اور لوگ واہ واہ کرنے لگے۔ حالانکہ اصل امتحان واہ واہ کروانا نہیں بلکہ لوگوں کو بار بار اپنی جانب متوجہ کرنا ہے۔ ایک بار تو کوئی بات چل سکتی ہے، مگر زندگی ایک بار کی کامیابی پر نہیں چلتی۔ نام اور مقام وہی پاتا ہے جو مہینوں نہیں بلکہ برسوں محنت کرتا ہے۔ جس نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالا، اپنی کمزوریوں پر قابو پایا اور خود کو مسلسل بہتر کیا۔
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم روزگار کو صرف روایتی نظریے سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں سرکاری نوکری میں بقا نظر آتی ہے یا پرانی طرز کے کاروبار میں۔ اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا کوئی سنجیدہ شعبہ نہیں، بلکہ ایک کھیل یا فیشن ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں یہ ایک بڑی معاشی طاقت بن چکا ہے۔ لوگ اس کے ذریعے اپنی شناخت، اپنی سوچ اور اپنا روزگار بنا رہے ہیں۔ لیکن وہ لوگ کامیاب ہیں جنہوں نے اس میدان کو ہنر، ذمہ داری اور محنت کے ساتھ اپنایا۔
پاکستان میں نوجوانی سب سے بڑی طاقت ہے، مگر اسی طاقت میں سب سے بڑی کمزوری بھی ہے۔ نوجوان جلدی میں ہیں۔ وہ فوری نتیجہ چاہتے ہیں۔ انہیں محنت کی عادت کم اور شارٹ کٹ کی خواہش زیادہ ہے۔ سوشل میڈیا نے ان کی اس خواہش کو اور تیز کر دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نام کمانے کا سب سے آسان راستہ یہی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آسان راستہ کہیں بھی نہیں ہے۔ جو راستہ آسان نظر آتا ہے، اس کے پیچھے سب سے زیادہ محنت چھپی ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا میں قدم رکھنے والے بہت سے نوجوان جب دو تین ناکام کوششوں کے بعد مایوس ہو جاتے ہیں تو وہ اس میدان کو قصور وار ٹھہراتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ انہوں نے خود کیا دیا، کتنی محنت کی، کتنی بار اپنی غلطیوں کا تجزیہ کیا اور کتنی بار سیکھنے کی کوشش کی۔ اس میدان میں ناکامی کا مطلب راستہ بدلنا نہیں، راستہ بہتر کرنا ہے۔ اس میں عزت اسی کی ہے جو غلطی سے نہ ڈرے، شکست سے نہ ڈرے اور تنقید کو برداشت کرے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا صرف عقل اور ہنر نہیں بلکہ کردار بھی مانگتا ہے۔ یہاں غلط قدم شہرت نہیں بلکہ بدنامی لاتا ہے۔ یہاں لوگ تعریف بھی کرتے ہیں اور سنگساری بھی۔ نوجوان جب اس میدان میں قدم رکھتے ہیں تو وہ صرف روزگار نہیں بلکہ اپنے اخلاق، اپنے گھرانے اور اپنے مستقبل کو بھی داؤ پر لگاتے ہیں۔ اسی لیے یہاں ذمہ داری اور احتیاط کا رویہ بنیادی ضرورت ہے۔
یہ بات طے ہے کہ سوشل میڈیا کوئی فرار کا راستہ نہیں۔ یہاں بھی محنت کرنی پڑتی ہے، بلکہ کہیں زیادہ۔ یہاں قسمت سے زیادہ مستقل مزاجی چلتی ہے۔ یہاں وہی کامیاب ہے جو خواب لے کر نہیں بلکہ محنت لے کر آئے۔ نوجوان اگر اس میدان میں قدم رکھنا چاہتے ہیں تو ضرور رکھیں، مگر یہ سوچ کر نہیں کہ یہاں تعلیم سے بھاگ کر، کتابوں سے بھاگ کر یا ذمہ داری سے بھاگ کر کام چل جائے گا۔
یہ میدان ان کے لیے ہے جو سیکھنے کے لیے تیار ہوں، خود کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہوں اور وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ سوشل میڈیا نہ تفریح ہے نہ کھیل۔ یہ ایک حقیقت ہے جو محنت کا قرض مانگتی ہے۔ اور وہ قرض ادا کیے بغیر اس کے دروازے نہیں کھلتے۔
نوجوان اگر اس حقیقت کو سمجھ لیں تو اس میدان میں ان کے لیے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ مگر اگر وہ فریب کی آنکھ سے دیکھیں گے تو وہ خود فریب کا شکار ہوں گے۔ اس میدان میں انسان نام نہیں خرید سکتا، مقام نہیں خرید سکتا۔ یہاں جو ملتا ہے، محنت سے ملتا ہے۔ اور جو نہیں کرتا، اسے کچھ نہیں ملتا۔
سوشل میڈیا کی دنیا ان لوگوں کی ہے جو عمل کرتے ہیں، صبر کرتے ہیں اور اپنے ہنر کو ثابت کرتے ہیں۔ جو اندھوں کی طرح پیروی نہیں کرتے بلکہ راستہ خود بناتے ہیں۔ جو بھیڑ نہیں، فکر لاتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر وہ جو بھاگ کر نہیں، ڈٹ کر آتے ہیں



Leave A Comment