آر پی او ملتان کا اردل روم،کیسز کی سماعت کئی کی سزائیں بحال
ملتان:- ریجنل پولیس آفیسر ملتان سید خرم علی نے کہا ہے کہ خلاف ضابطہ کام کرنے والے پولیس افسران کو سخت احتسابی عمل کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ محکمہ سے برخواستگی یا دیگر بڑی سزا بھی ہو سکتی ہے اس لئے پولیس افسران پر لازم ہے کہ وہ قانون اور ضابطہ کے مطابق فرائض انجام دیں کیونکہ غیر قانونی کام پر ملنے والی سزائیں ایک پولیس افسر کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اردل روم میں پولیس افسران اور ملازمین کی اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ اچھا کام اور اچھی کارکردگی کے حامل پولیس افسران اور ملازمین کو تعریفی سرٹیفیکیٹس اور نقد انعام سے بھی نوازا جا تا ہے جزا اور سزا کا عمل ہی پولیس افسران کو نظم و ضبط کا پابند بناتاہے اس لئے ہر پولیس آفیسر اپنے فرائض کی ادائیگی احسن طریقے سے انجام دے تاکہ عوام الناس میں پولیس کا مورال بلند رہے اردل روم میں جن پولیس افسران و ملازمین کی اپیلوں کی سماعت کی گئی ان میں انسپکٹر عمران صدیقی وہاڑی کی سزا سنشور ختم کی گئی ، سب انسپکٹر فراز خان ، سب انسپکٹر عمران گل نیازی اور سب انسپکٹر کلیم اللہ کو منشیات فروشی کے خلاف کارروائی میں بہتری کے لیے بالترتیب 10 اور 15یوم کا وقت دیا گیا ہے سب انسپکٹر شبیر حسین اور شفقت محمود کا شوکاز نوٹس داخل دفتر کر دیا گیا ملتان کےسب انسپکٹر محمد اکرم کا شوکاز نوٹس داخل دفتر کیا گیا سب انسپکٹر حاجی لیاقت علی کی اپیل برخلاف سروس ضبطگی میرٹ پر نہ ہونے پر خارج کی گئی سب انسپکٹر حاجی لیاقت علی کے 03 شوکاز نوٹس پر جوابات تسلی بخش نہ ہونے پر ایک سالانہ انکریمنٹ روکے جانے ، ایک سال سروس ضبطگی اور سزائے سنشور دی گئی جبکہ چوتھے شوکاز کا جواب تسلی بخش ہونے پر شوکاز داخل دفتر کیا گیا ، سب انسپکٹر ارشد محمود بھٹی کی اپیل برخلاف سزائے سنشور میرٹ پر نہ ہونے پر خارج کی گئی اے ایس آئی محمد رشید کا شوکاز نوٹس جواب تسلی بخش نہ ہونے پر سزا تنزلی تنخواہ ایک سال دی گئی اور کانسٹیبل الیاس سہیل لودھراں کی اپیل میرٹ پر نہ ہونے پر خارج کی گئی

_2026_09_16_13_24_35_85734178.jpg)

Leave A Comment