کمیونٹی کے لیے ریلیف، ورکر کے لیے آزمائش
تحریر : نعمان حفیظ
پنجاب میں کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام بظاہر عوام کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام کے ذریعے بنیادی صحت کی سہولیات گھر کی دہلیز تک پہنچیں گی، بیماریوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی، ویکسینیشن اور آگاہی میں اضافہ ہوگا اور دیہی و پسماندہ علاقوں میں صحت کا خلا پُر کیا جا سکے گا۔ یہ تمام مقاصد اپنی جگہ قابلِ تعریف ہیں، مگر میدانِ عمل میں اس پروگرام کی صورتِ حال کچھ اور ہی کہانی سناتی ہے۔ ایک طرف کمیونٹی کو وقتی ریلیف مل رہا ہے، تو دوسری طرف انہی سہولتوں کے لیے کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز، خصوصاً کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز، شدید دباؤ، بے ترتیبی اور نظامی کمزوریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ پروگرام کاغذ پر جتنا جدید اور جامع نظر آتا ہے، عملی سطح پر اتنا ہی پیچیدہ اور تھکا دینے والا ثابت ہو رہا ہے۔ CHI سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ روزانہ گھروں کا دورہ کریں، مریضوں کی ابتدائی اسکریننگ کریں، حاملہ خواتین اور بچوں کا ڈیٹا جمع کریں، ویکسینیشن کی نگرانی کریں، بیماریوں کے پھیلاؤ کی رپورٹنگ کریں اور یہ سب کچھ ایک ڈیجیٹل سسٹم کے تحت ٹیبلیٹس میں اپڈیٹ کریں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ذمہ داریاں زیادہ ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ان ذمہ داریوں کے لیے مناسب تربیت، مستحکم ڈیجیٹل نظام اور مسلسل تکنیکی معاونت فراہم نہیں کی گئی، خاص طور پر جنوبی پنجاب جیسے وسیع، پسماندہ اور جغرافیائی طور پر مشکل خطے میں۔
جنوبی پنجاب کا زمینی منظرنامہ اگر دیکھا جائے تو یہاں کے مسائل باقی صوبے سے مختلف اور کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے اضلاع اور تحصیلیں—جیسے ڈیرہ غازی خان، ملتان سٹی، ملتان صدر، شجاع آباد، جلالپور پیر والا، خانیوال، کبیروالا، میاں چنوں، جہانیاں، لودھراں، دنیا پور، کہروڑ پکا، وہاڑی، بوریوالا، میلسی، احمدپور ایسٹ، بہاولپور سٹی، بہاولپور صدر، حاصلپور، خیرپور ٹامیوالی، یزمان، بہاولنگر، چشتیاں، فورٹ عباس، ہارون آباد، منچن آباد، خانپور، لیاقتپور، رحیم یار خان، صادق آباد، کوٹ چھٹہ، لیہ، کروڑ لعل عیسن، چوبارہ، مظفرگڑھ، علی پور، جتوئی، راجن پور، جام پور، روجھان، کوٹ ادو، چوک سرور شہید، تونسہ، کوہِ سلیمان اور وہوا—یہ سب علاقے نہ صرف رقبے میں وسیع ہیں بلکہ سہولیات کے اعتبار سے بھی عدم توازن کا شکار ہیں۔ یہاں ایک ہی تحصیل کے اندر کہیں شہری بستی ہے تو کہیں کئی کئی کلومیٹر دور پھیلا ہوا دیہی علاقہ، جہاں انٹرنیٹ تو درکنار، موبائل سگنل بھی مشکل سے ملتا ہے۔

ایسے میں جب ایک کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر کو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ہر وزٹ کی تفصیل ٹیبلیٹ میں آن لائن درج کرے، تو یہ مطالبہ زمینی حقائق سے ٹکراتا نظر آتا ہے۔ کئی علاقوں میں نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے ڈیٹا بروقت اپلوڈ نہیں ہو پاتا، بعد میں جب سسٹم کھلتا ہے تو اندراج میں غلطیاں ہو جاتی ہیں، اور پھر انہی غلطیوں کی بنیاد پر ورکر سے جواب طلبی کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر نظام ہی غیر مستحکم ہو تو اس کی قیمت ایک فیلڈ ورکر کیوں چکائے؟
ایک اور سنگین مسئلہ ڈیٹا سیٹ کی غیر معیاری اور غیر ہم آہنگ نوعیت ہے۔ کئی جگہوں پر گھروں کی فہرستیں، یونین کونسل کی حد بندیاں اور آبادی کا ریکارڈ ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ نتیجتاً ایک ہی خاندان کبھی ایک ورکر کے دائرہ کار میں آ جاتا ہے اور کبھی دوسرے کے، کہیں بچے پہلے سے رجسٹرڈ دکھائی نہیں دیتے اور کہیں ڈپلیکیٹ انٹری سامنے آ جاتی ہے۔ اس ساری صورتِ حال میں ورکر اپنی توانائی کمیونٹی کی خدمت کے بجائے یہ ثابت کرنے میں لگا دیتا ہے کہ غلطی اس کی نہیں بلکہ سسٹم کی ہے۔

تربیت کے حوالے سے بھی یہی شکایت عام ہے کہ ابتدائی سیشنز میں محض بنیادی تعارف کرا دیا جاتا ہے، مگر عملی مسائل، ایپ کے باریک نکات، عام تکنیکی خرابیاں اور ان کے حل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔ دیہی علاقوں میں تعینات ورکر جب کسی تکنیکی مسئلے میں پھنس جاتا ہے تو فوری مدد کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہوتا۔ نہ قریبی سطح پر کوئی ٹیکنیکل ٹیم دستیاب ہوتی ہے اور نہ ہی ہیلپ لائن بروقت مسئلہ حل کر پاتی ہے۔ اس تاخیر کا براہِ راست اثر کارکردگی پر پڑتا ہے، جس کا خمیازہ پھر ورکر کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جنوبی پنجاب میں سماجی اور ثقافتی عوامل بھی اس کام کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔ بعض علاقوں میں گھروں تک رسائی، خواتین سے براہِ راست بات چیت، یا دور دراز بستیوں میں اکیلے سفر جیسے مسائل روزمرہ کا حصہ ہیں۔ ایسے میں جب ورک لوڈ غیر حقیقت پسندانہ ہو اور ٹارگٹس زمینی حالات کو نظر انداز کر کے مقرر کیے جائیں، تو ذہنی دباؤ بڑھنا فطری بات ہے۔ کمیونٹی کو تو وقتی سہولت مل جاتی ہے، مگر اس سہولت کی قیمت ایک تھکے ہوئے، دباؤ کا شکار اور غیر مطمئن ورکر کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا صحت کے نظام میں اصلاحات کا مطلب یہ ہے کہ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکر کو محض ڈیٹا اکٹھا کرنے والی مشین بنا دیا جائے؟ کیا ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ انسانی رابطہ کم اور اسکرین کا استعمال زیادہ ہو جائے؟ اگر ایک ورکر آدھا وقت ٹیبلیٹ دیکھنے میں گزار دے تو مریض سے بات، اعتماد سازی اور آگاہی کیسے ممکن ہوگی؟ صحت صرف اعداد و شمار کا نام نہیں، یہ اعتماد، وقت اور انسانی توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔
حکومتِ پنجاب کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ CHI پروگرام کی کامیابی صرف بھرتیوں کے اعداد و شمار یا جمع شدہ ڈیٹا کی مقدار سے نہیں ناپی جا سکتی۔ کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ آیا ورکر کو سہولت، عزت اور تحفظ کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل رہا ہے یا نہیں۔ اگر جنوبی پنجاب جیسے علاقوں میں ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنائے بغیر، آف لائن حل فراہم کیے بغیر اور مسلسل تربیت کے بغیر یہی دباؤ برقرار رہا تو اندیشہ ہے کہ یہ پروگرام بھی دیگر اصلاحاتی منصوبوں کی طرح فائلوں اور رپورٹس تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس پروگرام کو انسان مرکز نقطۂ نظر سے دیکھے۔ ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے جس میں ڈیٹا اصلاح کا ذریعہ ہو، سزا کا نہیں۔ جہاں غلطی پر پہلے رہنمائی ہو، تربیت ہو اور پھر احتساب۔ جہاں نیٹ ورک نہ ہونے کی صورت میں آف لائن کام کو تسلیم کیا جائے۔ جہاں جنوبی پنجاب کے ہر ضلع اور تحصیل کی زمینی حقیقت کے مطابق پالیسیاں ترتیب دی جائیں، نہ کہ ایک ہی ماڈل پورے صوبے پر لاگو کر دیا جائے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز واقعی عوام کے لیے ریلیف بن سکتے ہیں، مگر تب ہی جب خود ان کے لیے یہ نظام ریلیف بنے، آزمائش نہیں۔ اگر حکومت نے بروقت اصلاح نہ کی تو خدشہ ہے کہ صحت کی یہ امید، ورکر کی مایوسی میں تبدیل ہو جائے گی—اور اس کا نقصان بالآخر اسی کمیونٹی کو ہوگا جس کی بہتری کے لیے یہ پروگرام شروع کیا گیا تھا۔



Leave A Comment