بارش کا پانی فصلوں کے لیے زیادہ مفید، باغبان نکاسی آب اور احتیاطی تدابیر اپنائیں
محکمہ زراعت کے حکام نے کہا ہے کہ بارش کا پانی ٹیوب ویل کے پانی کے مقابلے میں فصلوں اور پودوں کے لیے زیادہ مفید ہوتا ہے کیونکہ یہ جڑوں کے ذریعے جذب ہو کر خوراک کو پودے کے مختلف حصوں تک بہتر انداز میں پہنچاتا ہے۔ ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری خالد محمود نے اپنے بیان میں کہا کہ مون سون کی بارشیں خصوصاً پھلدار پودوں کی نشوونما کے حساس مراحل میں انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پھلدار پودے بڑھوتری کے اہم مراحل سے گزر رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں پانی کی کمی نہ ہونے دی جائے۔ بارش کے دوران پودے اپنے مساموں کے ذریعے نائٹروجن بھی جذب کرتے ہیں جو ان کی نشوونما کو تیز کرتا ہے، جبکہ بارش سے پتے صاف ہو کر ضیائی تالیف کا عمل بھی بہتر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وقفے وقفے سے بارش ہونے سے درجہ حرارت میں کمی آتی ہے جو پودوں کی بہتر بڑھوتری میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ تاہم باغبانوں کو چاہیے کہ وہ بارش کے دوران باغات کی دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دیں اور زائد پانی کی نکاسی کا فوری انتظام کریں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پانی 24 گھنٹوں سے زیادہ پودوں کی جڑوں کے قریب کھڑا رہے تو جڑیں گل سکتی ہیں جس سے پودے متاثر ہوتے ہیں۔ مزید برآں، زیادہ بارش کی صورت میں پودوں کے تنے کو بیماریوں سے بچانے کے لیے مناسب پھپھوند کش ادویات کا استعمال بھی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق ان احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے باغبان اپنی فصلوں اور باغات کو بہتر بنا سکتے ہیں اور پیداوار میں اضافہ حاصل کر سکتے ہیں۔

_2026_08_13_08_13_35_57207435.jpg)
_2026_08_13_08_11_27_91345821.jpg)
Leave A Comment