پنجاب اسمبلی کے رکن محمد اعجاز شفیع نے گندم کی خریداری کے عمل میں شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ انہوں نے اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے 11 کمپنیوں کو غیر معمولی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جن کی وضاحت ضروری ہے۔

ان کے مطابق ان کمپنیوں کو سرکاری گودام مفت فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ اگر یہ نجی کمپنیاں ہیں تو انہیں یہ سہولت بغیر کسی قیمت کے کیوں دی گئی؟ مزید برآں، تقریباً 6 ارب روپے مالیت کا باردانہ بھی مفت دیا گیا ہے، جس پر شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔

اعجاز شفیع نے یہ بھی بتایا کہ محکمہ فوڈ کے تقریباً 400 ملازمین کو ان نجی کمپنیوں کے حوالے کر دیا گیا ہے، جو کہ ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ انہوں نے متعلقہ وزیر سے مطالبہ کیا کہ ان تمام معاملات پر وضاحت دی جائے اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

اسمبلی اجلاس کے دوران ایک کمپنی کی ملکیت سے متعلق ایک اہ

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار