پنجاب میں جدید زرعی طریقے: سویا بین اور مکئی کی پیداوار دوگنا ممکن، پروفیسر ڈاکٹر ظہیر احمد
اسلام آباد: جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے سویابین تحقیقاتی لیب کے انچارج پروفیسر ڈاکٹر ظہیر احمد نے کہا ہے کہ پنجاب میں جدید زرعی طریقوں اور زرعی مداغل کے متناسب استعمال سے سویا بین اور مکئی کی پیداوار دوگنا بڑھائی جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں سویا بین کی مقامی پیداوار بڑھانے سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ممکن ہوگی اور درآمدات پر انحصار کم ہوگا۔ اس وقت پنجاب کے مختلف اضلاع میں نان جی ایم او سویا بین کی کمرشل بنیادوں پر کاشت ہو رہی ہے، خاص طور پر قصور، اوکاڑہ، ساہیوال، لودھراں، خانیوال اور بہاولپور میں جدید بیجوں سے فی ایکڑ پیداوار 40 من سے زیادہ حاصل کی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر ظہیر احمد نے بتایا کہ مکئی کے نئے بیجوں سے پیداوار 50 من فی ایکڑ تک بڑھائی جا سکتی ہے، جبکہ موجودہ اوسط پیداوار 25 تا 30 من ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سالانہ سویا بین کی درآمدات پر ایک ارب ڈالر سے زائد خرچ کرتا ہے تاکہ پولٹری، ڈیری اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں پروٹین کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
پنجاب حکومت نے آئندہ تین سال کے دوران سویا بین کے زیر کاشت رقبہ کو 1.5 تا 2 ملین ایکڑ تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کلائیمیٹ سمارٹ اور ہائی نیوٹریشنل بیجوں کی تیاری کے ساتھ کاشتکاروں اور صنعتوں کے درمیان روابط کو فروغ دے رہی ہے تاکہ قومی غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
_2026_04_19_17_22_43_49900087.jpg)
_2026_08_13_08_13_35_57207435.jpg)
_2026_08_13_08_11_27_91345821.jpg)
Leave A Comment