فیصل آباد: ڈاکٹر Haider Ali Khan نے کہا کہ شتر مرغ فارمنگ لائیو سٹاک اور پولٹری فارمرز کے لیے ایک شاندار منافع بخش کاروبار ثابت ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر میں شتر مرغ کی مانگ اور قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں دستیابی بڑھنے تک اس کے منافع میں اضافہ متوقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ افریقی ممالک دنیا میں شتر مرغ کے گوشت، پر، چمڑا اور دیگر مصنوعات فراہم کرنے میں سر فہرست ہیں، جبکہ آسٹریلیا، یورپ، مشرق وسطی اور امریکہ میں بھی اس کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں ابھی تک کمرشل بنیادوں پر شتر مرغ فارمنگ شروع نہیں ہوئی۔

ڈاکٹر حیدر علی خان نے کہا کہ مادہ شتر مرغ 40 سال تک انڈے دیتی ہے، ہر سیزن میں 50 سے 70 انڈے دیتی ہے اور 42 دن میں بچہ نکلتا ہے۔ شتر مرغ کا گوشت کم چکنائی والا اور صحت بخش ہے، جبکہ پر، چمڑا اور تیل بھی تجارتی طور پر قیمتی ہیں۔

انہوں نے شتر مرغ کے جسمانی خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی: نر پرندے کے پر کالے اور سفید سرحد والے، مادہ پرندے کے پر بھورے، اونچائی 5.5 سے 9 فٹ، وزن 90 سے 160 کلوگرام، اور دو انگلیوں والے پاؤں ہیں۔ شتر مرغ 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے اور یہ اڑنے سے قاصر ہے۔

ڈاکٹر حیدر علی خان نے کہا کہ ابتدائی سرمایہ کاری چھوٹے چوزوں کے لیے 1.5 سے 2 لاکھ روپے اور درآمد شدہ بریڈرز کے لیے 2 سے 3 لاکھ روپے فی پرندہ ہے۔ چھوٹے چوزوں کی خریداری نئے سرمایہ کاروں کے لیے آسان اور کم خطرناک ہے، اور فارم کے بہتر انتظام سے زیادہ منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔

شتر مرغ فارمنگ کا پہلا کمرشل فارم جنوبی افریقہ میں 1863 میں قائم ہوا تھا، اور آج یہ کاروبار دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار