صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مختلف ہائیکورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تقرری اور بعض ایڈیشنل ججز کی بطور مستقل ججز توثیق کی منظوری دے دی۔

صدرِ مملکت نے لاہور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ، پشاور ہائی کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تقرری کی منظوری دی۔ سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے بعض ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کو وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے مساوی کرنے کی منظوری بھی دے دی۔

اس کے علاوہ ہائیکورٹ ججز کی رخصت، پنشن اور مراعات سے متعلق 1997ء کے حکم میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

صدرِ مملکت نے ہارون اختر کو وزیرِ اعظم کا مشیر برائے صنعت و پیداوار مقرر کرنے کی منظوری بھی دے دی۔

سمری کی منظوری کے بعد ججز کی حلف برداری کی تقریب جلد منعقد کیے جانے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے 20 اور 21 جولائی کے اجلاسوں میں 19 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی سفارش کی گئی تھی، جبکہ 5 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے اور ایک جج کی مدت میں توسیع کی بھی سفارش کی گئی تھی۔

ججز کی تقرری کی سمری پر دستخط نہ ہونے کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی گئی تھی۔ صدرِ مملکت کی منظوری کے بعد ججز کی نامزدگیوں کا معاملہ حل ہونے سے متعلق عدالتی کارروائی غیر مؤثر ہونے کا امکان ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار