پوٹھوہار میں سویا بین کی کاشت سے خوردنی تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی ممکن
زرعی ماہرین کے مطابق پوٹھوہار کا خطہ سویا بین کی کاشت کے لیے نہایت موزوں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس فصل کو فروغ دیا جائے تو پاکستان میں خوردنی تیل کی درآمدات میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔
ماہرین نے بتایا کہ سویا بین ایک انتہائی مفید فصل ہے جس کے بیج میں 20 سے 22 فیصد اعلیٰ معیار کا تیل اور تقریباً 40 فیصد پروٹین موجود ہوتا ہے، جو انسانی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامن اے، بی اور سی بھی پائے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں سویا بین پولٹری فیڈ کی 65 فیصد اور خوردنی تیل کی 20 فیصد ضروریات پوری کرتا ہے۔ سویا بین سے سویا دودھ، کیک، بسکٹ، مٹھائیاں، مصنوعی گوشت، ادویات اور صابن سمیت کئی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق سویا بین زمین کی زرخیزی بڑھانے میں بھی مددگار ہے کیونکہ یہ پودا اپنی جڑوں کے ذریعے ہوا سے نائٹروجن حاصل کر کے زمین میں شامل کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب کے پوٹھوہار ریجن میں اس فصل کو فروغ دے کر نہ صرف مقامی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں بلکہ معیشت کو بھی فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔
_2026_07_21_09_19_23_52714860.jpg)
_2026_08_13_08_13_35_57207435.jpg)
_2026_08_13_08_11_27_91345821.jpg)
Leave A Comment