ہسپتالوں میں صفائی کی ابتر حالت: لمحہ فکریہ
تحریر✍️ نسیم اختر 🌷
چند روز قبل لاہور کے مشہور چلڈرن ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا۔ علاج معالجے کے لحاظ سے ادارہ یقیناً اپنی جگہ اہم ہے، مگر بات جب صفائی کی آئی تو دل دکھی ہوگیا۔ اسپتال کے واش رومز میں بدبو، گندگی، استعمال شدہ پیمپرز، گیلے ٹشوز، اور کچرے کے ڈھیر نے جیسے “صفائی نصف ایمان ہے” کو عملی طور پر “صفائی نصف پاکستان میں نہیں” ثابت کر دیا۔
پیمپرز کونے میں پھینکے گئے تھے، فرش پر پانی جمع تھا، اور کسی صفائی عملے کا نام و نشان تک نہیں۔ گویا ہم نے “مہذب بننے” کا صرف ایک رخ دیکھا — استعمال تو کرلیا، مگر تلف کرنے کا شعور ابھی کوسوں دور ہے۔
یہ مناظر صرف ایک اسپتال تک محدود نہیں۔ بس اسٹینڈ، پارک، مارکیٹ، اسکول — جہاں جائیں وہاں کچرا، گندگی، اور بے حسی کا راج ہے۔ ڈسٹ بن خالی کھڑے رہتے ہیں اور زمین پر “قوم کی تربیت” بکھری نظر آتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کچرا کہاں ہے، سوال یہ ہے کہ شعور کہاں ہے؟
مہذب دنیا میں یہ سب کس طرح ہوتا ہے، ذرا اس کا بھی تقابل کرلیں۔
جاپان میں اگر کسی بچے کا پیمپر تبدیل کیا جائے تو والدین فوری طور پر اسے خاص “Diaper Disposal Bag” میں بند کرتے ہیں جو کہ بدبو روکنے والا اور بایو ڈیگریڈیبل ہوتا ہے۔ وہ تھیلا مقررہ “Hygienic Waste Bin” میں ڈالا جاتا ہے جو صرف اس مقصد کے لیے بنایا گیا ہے۔ ہر عمارت اور اسپتال میں Waste Segregation System موجود ہے — یعنی کچرے کو تین حصوں میں الگ کیا جاتا ہے: ری سائیکل، آرگینک، اور ہائی جینک ویسٹ۔
یورپ کے ممالک میں اسپتالوں میں “Nappy Waste Units” ہوتے ہیں جہاں سینیٹری اسٹاف ہر گھنٹے بعد صفائی کرتا ہے۔ وہاں والدین کو سکھایا جاتا ہے کہ گندا پیمپر بھی ذمہ داری سے ٹھکانے لگانا اخلاقی فرض ہے۔ سوئیڈن، جرمنی، برطانیہ جیسے ممالک میں اگر کوئی شہری اسپتال یا پبلک جگہ پر گند پھینکے تو بھاری جرمانہ اور سوشل سروس کی سزا ہوتی ہے۔
اب ذرا ہم اپنے ملک کی طرف دیکھیں۔ یہاں پیمپر کلچر تو بہت تیزی سے آیا مگر صفائی کلچر ابھی نرسری میں بھی داخل نہیں ہوا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ گندا پیمپر “کچرا دان کے باہر” ڈال دینا بھی کافی نیکی ہے۔
سینٹری ورکرز کی حالت بھی قابلِ رحم ہے۔ بیشتر کو مناسب حفاظتی سامان، دستانے یا ماسک تک میسر نہیں۔ کئی جگہ تو صفائی کا عملہ موجود ہی نہیں یا اگر ہے بھی تو اتنا غیر تربیت یافتہ کہ صفائی کے بجائے مزید آلودگی پھیلا دیتا ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو صفائی صرف جسم یا لباس تک محدود نہیں، بلکہ روح، ماحول اور سماج کی صفائی بھی ایمان کا حصہ ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
> “اَلطُّهُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَانِ”
(صفائی ایمان کا نصف ہے)
لیکن بدقسمتی سے ہم نے ایمان کے اس آدھے حصے کو خود ہی قربان کر دیا۔ ہم نماز میں پاکی کے اصول پڑھتے ہیں مگر اسپتال میں گندگی کے ڈھیر سے گزرتے ہوئے بھی بے حسی سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
صفائی کے حوالے سے ایک دلچسپ مثال ترکی سے ہے۔ استنبول کی بلدیہ نے “Clean City, Proud City” کے نام سے مہم شروع کی۔ شہریوں کو کچرا اٹھانے پر انعامات دیے گئے، اسکولوں میں بچوں کو “کچرا الگ کرنا” پڑھایا گیا، اور اسپتالوں میں ہر پانچ میٹر پر ایک ڈسٹ بن رکھا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چند ماہ میں پورا شہر چمک اٹھا۔
اسی طرح سنگاپور میں “Zero Litter Policy” ہے — اگر کوئی شخص سڑک پر کچرا پھینکتا پکڑا جائے تو نہ صرف جرمانہ بلکہ ایک ہفتہ عوامی صفائی کا کام سونپا جاتا ہے۔ وہاں صفائی شرم کی نہیں، وقار کی علامت ہے۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ صرف حکومت پر الزام لگا دینا کافی نہیں۔ اگر عوام خود باشعور نہ ہوں تو دنیا کی کوئی پالیسی انہیں مہذب نہیں بنا سکتی۔ عوامی شعور کی سطح اتنی کم ہے کہ اسپتالوں، اسکولوں، حتیٰ کہ مذہبی مقامات پر بھی گندگی عام ہے۔
کبھی کسی نے سوچا کہ ان گندے واش رومز سے روزانہ کتنے جراثیم پھیل کر مریضوں کو مزید بیمار کرتے ہیں؟ اسپتال جہاں شفا ملنی چاہیے، وہاں بیماری بڑھ جاتی ہے۔
حکومت کے پاس وسائل کی کمی نہیں، لیکن عملدرآمد کی نیت اور نظام کی کمی ضرور ہے۔ اگر ہمارے اسپتالوں میں مغربی طرز کا Waste Segregation System نافذ کر دیا جائے — یعنی کچرے کے تین رنگوں والے ڈبے (سبز، نیلا، لال) لگائے جائیں، عملے کو حفاظتی سامان دیا جائے، اور والدین کو سکھایا جائے کہ پیمپرز یا سینیٹری ویسٹ کو کہاں ڈالنا ہے — تو صورتحال بہت بدل سکتی ہے۔
اس کے ساتھ عوامی آگاہی مہمات ناگزیر ہیں۔ ٹی وی، اسکولوں، مساجد، اور اسپتالوں میں صفائی شعور مہمات چلانی ہوں گی۔ جیسے پولیو مہم نے ملک کو ایک پیغام دیا، ویسے ہی “Clean Pakistan Mission” ہونا چاہیے جس میں بتایا جائے کہ کچرا پھینکنا جرم نہیں بلکہ اخلاقی بددیانتی ہے۔
اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مدینہ کی گلیاں صاف رہتیں۔ حضرت عمرؓ اپنے دور میں صفائی کے نگران مقرر کرتے تھے۔ ابن خلدون نے لکھا کہ “تمدن کی پہچان اس کے بازار اور گلیوں کی صفائی سے ہوتی ہے۔” افسوس، ہمارے بازار اور گلیاں آج ہمارے تمدن پر سوالیہ نشان ہیں۔
اگر ہم اپنے بچوں کو صرف یہ سکھا دیں کہ “ڈسٹ بن میں پھینکنا بھی تہذیب کا حصہ ہے”، تو آنے والی نسلیں ہمیں شکر گزار ہوں گی۔ پیمپرز کا استعمال بڑھنا ترقی نہیں — انہیں ٹھکانے لگانے کا سلیقہ آنا تہذیب ہے۔
ہمیں مغرب سے مشینیں نہیں، عادتیں امپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسپتالوں میں سینٹری ورکرز کو باعزت تنخواہیں، تربیت، اور حفاظتی سامان ملے۔ عوام کو احساس دلایا جائے کہ صفائی صرف ملازم کی ذمہ داری نہیں بلکہ اجتماعی فرض ہے۔
اگر ہم نے یہ نہ کیا تو کل کا پاکستان ایک “بڑے پیمانے پر گندہ ہسپتال” بن جائے گا — جہاں ہر طرف علاج کے بجائے آلودگی پھیلے گی۔
صفائی کے اس بحران میں ہمیں یاد رکھنا ہوگا:
“جو قوم اپنا کوڑا خود نہ اٹھائے، وہ کبھی ترقی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔”
ہمیں یہ بات سمجھنا ہو گی کہ صفائی نہ صرف نصف ایمان ہے، بلکہ مکمل انسانیت کی پہچان بھی



Leave A Comment