تحریر: تنویر بھٹی

موجودہ عالمی حالات میں پاکستان ایک نہایت اہم سفارتی مقام حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی فضا نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو ایک ایسے ملک کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے جو اعتدال، دانشمندی اور غیر جانبداری کے ساتھ امن کی راہ ہموار کر سکے۔ اس تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اس کا متوازن رویہ عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ یہ امر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ذمہ دار اور مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی طاقتیں پاکستان سے توقع رکھتی ہیں کہ وہ اپنے سفارتی روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے تنازعات کے حل میں مثبت کردار ادا کرے۔

پاکستان کی اس بڑھتی ہوئی اہمیت کی ایک بڑی وجہ اس کا جغرافیائی محل وقوع بھی ہے، جو اسے ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک پل کی حیثیت دیتا ہے۔ یہی جغرافیائی حیثیت اسے تجارتی، دفاعی اور سفارتی لحاظ سے ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔ حالیہ حالات میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کو امن مذاکرات کے لیے ایک قابلِ اعتماد میزبان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو اس کی سفارتی کامیابی کا مظہر ہے۔ اگر پاکستان اس موقع سے دانشمندی کے ساتھ فائدہ اٹھائے تو وہ نہ صرف اپنی عالمی ساکھ کو مزید بہتر بنا سکتا ہے بلکہ خطے میں امن کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کو اندرونی طور پر جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں سب سے اہم مسئلہ توانائی کا بحران ہے۔ یہ مسئلہ ملک کے قیام کے بعد سے ہی مختلف شکلوں میں موجود رہا ہے اور آج بھی معیشت کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ توانائی کی قلت کی وجہ سے صنعتیں متاثر ہوتی ہیں، روزگار کے مواقع محدود ہوتے ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا براہِ راست اثر عام شہری پر پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر توانائی کے مسائل میں کمی لائی جا سکتی ہے، کیونکہ ایران قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور پاکستان کی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات بھی موجود ہیں، جو دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل سرحد بھی اس بات کی متقاضی ہے کہ باہمی تجارت کو فروغ دیا جائے اور اقتصادی روابط کو مضبوط بنایا جائے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت کو فروغ ملتا ہے تو اس سے نہ صرف توانائی کے مسائل میں کمی آئے گی بلکہ دونوں ممالک کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ تاہم، اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ عالمی پابندیاں ہیں، جن کی وجہ سے پاکستان کو ایران کے ساتھ کھل کر تجارتی تعلقات استوار کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی سفارتی مہارت کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ اگر پاکستان اپنی عالمی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑی طاقتوں کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جائے کہ اسے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کا حق حاصل ہونا چاہیے، تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان نہ صرف سستی توانائی حاصل کر سکے گا بلکہ اپنی معیشت کو بھی مستحکم بنا سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو فروغ دے کر ایک مضبوط اقتصادی بلاک کا حصہ بن سکتا ہے، جو مستقبل میں اس کے لیے مزید مواقع پیدا کرے گا۔

پاکستان کی دفاعی صلاحیت بھی اس کی عالمی ساکھ میں اضافے کا ایک اہم عنصر ہے۔ ایک مضبوط دفاعی نظام کسی بھی ملک کو عالمی سطح پر عزت اور وقار دلاتا ہے، اور پاکستان اس حوالے سے ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی افواج نے ہر مشکل وقت میں ملک کا دفاع کیا ہے اور بیرونی خطرات کا بھرپور مقابلہ کیا ہے، جس سے عالمی برادری میں اس کا اعتماد بڑھا ہے۔ یہی اعتماد سفارتی میدان میں بھی پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

معاشی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے اندرونی وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرے۔ زراعت، صنعت اور تجارت کے شعبوں میں اصلاحات لا کر ملک کو خود کفیل بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرونی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دینا ہوگا تاکہ معیشت میں استحکام آئے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ اگر پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ اس کی معاشی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کو دور کر دے گا۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک نازک مگر اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف عالمی سطح پر اس کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف اندرونی مسائل اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ایک جامع اور دور اندیش حکمت عملی اختیار کرے جس میں سفارت کاری، معیشت اور علاقائی تعاون کو یکجا کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ توانائی کے بحران کے حل کو اولین ترجیح دے، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو عملی بنیادوں پر مضبوط کرے، اور عالمی طاقتوں کے ساتھ توازن برقرار رکھتے ہوئے قومی مفادات کا بھرپور تحفظ کرے۔ اگر یہ اقدامات سنجیدگی اور مستقل مزاجی کے ساتھ کیے جائیں تو پاکستان نہ صرف اپنے معاشی مسائل پر قابو پا سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط، خود مختار اور باوقار ریاست کے طور پر عالمی منظرنامے پر نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار