وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ Rana Tanveer Hussain نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈیری مصنوعات پر زیادہ ٹیکس اس شعبے کی ترقی میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر جی ایس ٹی میں کمی کی جائے تو نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ڈیری سیکٹر بھی مستحکم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیکس پالیسیوں کے باعث ڈیری کا باقاعدہ شعبہ سکڑ رہا ہے، دیہی علاقوں میں دودھ جمع کرنے کے مراکز بند ہو رہے ہیں اور عوام کو محفوظ دودھ کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق دودھ کو عیش و عشرت نہیں بلکہ بنیادی غذائی ضرورت سمجھا جانا چاہیے۔ اجلاس میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ دودھ پر عائد 18 فیصد جی ایس ٹی کو کم کر کے 5 سے 10 فیصد تک لایا جائے تاکہ عام آدمی کی پہنچ میں آئے اور غذائی قلت کے مسائل کم ہوں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 40 فیصد بچے غذائی کمی کا شکار ہیں، جبکہ ڈیری سیکٹر کا بڑا حصہ غیر رسمی ہے۔ ماہرین نے اس شعبے کو دستاویزی بنانے، سرمایہ کاری بڑھانے اور معیاری دودھ کی فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

حکام کے مطابق حکومت مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے اور امکان ہے کہ آئندہ بجٹ میں اس حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

You Might Also Like

Leave A Comment

جڑے رہیے

نیوز لیٹر

کیلنڈر

اشتہار